خواہش سے جب رنگ اترنے لگتے ہیں

Hafeez Jauhar

خواہش سے جب رنگ اترنے لگتے ہیں

موسم اپنے اندر مرنے لگتے ہیں

اک بادل کو دیکھ کے دشت کی آنکھوں میں

سیرابی کے خواب سنورنے لگتے ہیں

جب دریا کی چال سمجھ میں آتی ہے

لوگ کناروں پر بھی ڈرنے لگتے ہیں

دن کٹتا ہے سورج کی ہم راہی میں

شب کو دل کے داغ بھی جلنے لگتے ہیں

اس کا فون نہیں ملتا تو اکثر ہم

اپنے آپ سے باتیں کرنے لگتے ہیں