نوحے لکھتے لکھتے یہ دل تھک جاتا ہے
Yahya Amjadنوحے لکھتے لکھتے یہ دل تھک جاتا ہے
بکھرے ہوئے ہیں سب دل والے
ہم متوالے تنہا ہیں
روشنیوں کے بیٹے تاریکی میں آ کر چمکیں
ہم راہوں میں تیار ملیں گے
جو یلغار یہاں بھی ہوگی
ہم اپنے خوں کے فواروں کو عام کریں گے
ایک چراغاں کوچۂ رسوائی میں
اک بالائے بام کریں گے
ان روزوں میں یہ دل تھک کر سو بھی چکے تو
ہم خوش ہوں گے
بادل کے تکیے پہ بہت آرام کریں گے