الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہے

آسی الدنی

الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہے

غم لاکھ سہے تو ایک خوشی ملتی ہے

ہر شمع کو بزم دہر میں اے آسیؔ

جلنے ہی کے بعد روشنی ملتی ہے