پھر لب پہ تیرا ذکر ہے پھر تیرا نام ہے

Yahya Amjad

پھر لب پہ تیرا ذکر ہے پھر تیرا نام ہے

پھر جاں لٹانے والوں کا اک ازدحام ہے

سبط رسول ہونا ہی عزت کی بات ہے

پر اس سے بڑھ کے تیرے عمل کا مقام ہے

رسم یزید ظلم ہے ہر بار عارضی

دین حسین جد و جہد ہے مدام ہے

ہے حرب عشق فتح کی خواہش سے بے نیاز

یہ بات الگ کہ ہار کے بھی فتح نام ہے

کیا غم اگر یزید رہا اقتدار میں

پرچم تو پھر حسین کا میر عوام ہے

پرچم بنا ہے پھر کئی شہروں میں تیرا نام

تو کاروان جد و جہد کا امام ہے