صدائے کن ہوئی یکسر وجود میں آیا

Faisal Saghar

صدائے کن ہوئی یکسر وجود میں آیا

میں بھر چکا تو سمندر وجود میں آیا

اور اس سے پہلے یہاں کچھ نہیں تھا کچھ بھی نہیں

یہ میرے دیکھتے منظر وجود میں آیا

خدا کو شکل کی حسرت ہوئی تھی جس لمحے

سنا ہے تب مرا پیکر وجود میں آیا

اسے بتایا تھا میں نے میں رنگ لاتا نہیں

وہ جانتے ہوئے بنجر وجود میں آیا

یہ لوگ جس کا تصور بھی کر نہیں سکتے

وہ میرے واسطے اکثر وجود میں آیا

وہ ٹوٹ پھوٹ کسی کام آ گئی فیصلؔ

میں پہلے سے کہیں بہتر وجود میں آیا