جو تھامتے تھے مرا ہاتھ بوڑھے ہو گئے ہیں
Faisal Sagharجو تھامتے تھے مرا ہاتھ بوڑھے ہو گئے ہیں
تبھی تو میرے خیالات بوڑھے ہو گئے ہیں
اب اس سے بڑھ کے ہمیں اور آزمائے گا کیا
کہ چلتے چلتے ترے ساتھ بوڑھے ہو گئے ہیں
ہمارا بوجھ اٹھانے سے اب گریزاں ہیں
تمہارے ارض و سماوات بوڑھے ہو گئے ہیں
سفر مزید کریں گے تو گر پڑیں گے کہیں
کہ آتے جاتے یہ دن رات بوڑھے ہو گئے ہیں
جو میرے سر کی سفیدی پہ مسکراتے تھے
بس ایک رات رہے ساتھ بوڑھے ہو گئے ہیں
میں نسل نو کا اسے المیہ سمجھتا ہوں
شجر جواں ہیں مگر پات بوڑھے ہو گئے ہیں
تمہاری سمت سے اذن کلام ملتا نہیں
مرے لبوں پہ سوالات بوڑھے ہو گئے ہیں