اسے بھی رسم کا حصہ بتایا جاتا ہے

Faisal Saghar

اسے بھی رسم کا حصہ بتایا جاتا ہے

ہمیں گھسیٹ کے بازار لایا جاتا ہے

تو کیا بعید کہ ہم سر خرو بھی ہو جائیں

ہمارا ظرف اگر آزمایا جاتا ہے

گزشتہ عہد میں ہم شہر سے نکالے گئے

نجانے اب کے ہمیں کیا سنایا جاتا ہے

اب ایسے حال میں کیا قہقہوں کی فرمائش

یہی بہت ہے اگر مسکرایا جاتا ہے

تمہیں تو لوریاں شاید سنائی جاتی ہوں

ہمیں تو تھپکیاں دے کر سلایا جاتا ہے

اسی لیے تو مجھے روشنی پسند نہیں

جہاں بھی جاؤں مرے ساتھ سایا جاتا ہے