میں گراں بار تھا اس واسطے کم مایہ تھا
Faisal Sagharمیں گراں بار تھا اس واسطے کم مایہ تھا
تجھ کو کیوں روندا گیا تو تو فقط سایہ تھا
کل کھلا کتنے دنوں بعد یہ دروازۂ دل
کل کوئی کتنے دنوں بعد یہاں آیا تھا
بار بار اٹھتی تھیں آنکھیں مری خنجر کی طرف
کتنی مشکل سے میں شب خود کو بچا پایا تھا
پھر مرے ہاتھ میں اک روشنی در آئی تھی
میں نے کچھ دیر کسی ہاتھ کو سہلایا تھا
پھر مری بات سنی ان سنی کرنے لگے لوگ
میں نے اک روز کسی بات کو دہرایا تھا
کل مرے کمرے میں مہکار تھی فیصلؔ کیا کیا
کل مرے کمرے میں پھولوں کا خدا آیا تھا