خدا گواہ دل اک لمحہ بھی نہیں غافل
Yahya Amjadخدا گواہ دل اک لمحہ بھی نہیں غافل
تمہاری یاد بھی باقی ہے دکھ بھی باقی ہے
وہ شام غم بھی اسی طرح دل پہ قائم ہے
وہ روز سخت بھی سینے میں درد بن کر ہے
جب ایک حملۂ دل تم پہ ظلم کرتا تھا
عظیم شہر کے مرکز میں اک اداس سا گھر
علاج سے محروم
تمہارے دکھ میں تڑپنے کو دیکھ کر چپ تھا
تو سارے شاہی محلات شور عیش میں تھے
مجھے تو فلسفۂ صبر بھی گوارا ہے
مگر یہ فلسفہ اس دل کو کون سمجھائے
جو تیری یاد کے غم کو خدا سمجھتا ہے
اگر گئے ہوئے اک لمحہ مڑ کے آ سکتے
فنا کے بعد دوبارہ حیات اگر ہوتی
تو میں ضرور لپٹ کر تمہارے سینے سے
تمام قصۂ غم آنسوؤں میں برساتا
مگر مجھے تو خبر ہے کہ یہ نہیں ممکن
اسی لیے مرے دل میں الم بھی باقی ہے
تری جہاد مسلسل سی زندگی کی کتاب
مری حیات کے اک اک ورق پہ لکھی ہے
جو تو نے راہ میں چھوڑا تھا پرچم تگ و دو
حریف کچھ بھی کہیں آج میرے ہاتھ میں ہے
قرار خاطر محزوں اگر کوئی شے ہے
تو اسی کا خیال!