بے نمود درد کی نمائش کیوں

Hafeez Jauhar

بے نمود درد کی نمائش کیوں

دل سے کرتی ہے آنکھ سازش کیوں

غم جو لکھا ہوا ہے چہرے پہ

کوئی پڑھ لے تو اس سے رنجش کیوں

وہ جو ہر زاویے سے دل میں ہے

اس کو پھر دیکھنے کی خواہش کیوں

خواب تازہ جگائے آنکھوں میں

ہم پہ موسم کی یہ نوازش کیوں

سب کو اپنے ہی کام تھے اس سے

کوئی کرتا مری سفارش کیوں