عیاں ہو آپ بیگانہ بنایا

Yasin Ali Khan Markaz

عیاں ہو آپ بیگانہ بنایا

وجود خاک کا شانہ بنایا

تو ہے الفاظ سے ماہر اے واعظ

مجھے بے کیف و کم معنیٰ بنایا

کیا اظہار جب میں راز حق کو

تو عالم مجھ کو رندانہ بنایا

ہنسی سے میری اس نے ٹال دی بات

میں تھا ہوشیار دیوانہ بنایا

مجھے ساقی نے بے منت کے دی مے

خمار عشق مردانہ بنایا

پکارا عشق نے جا ڈھونڈ لے یار

تن خاکی کو ہے خانہ بنایا

اڑایا بات میں جو خود پرستی

مجھے مل دے کے مستانہ بنایا

میں جانا آپ کو ہر حال مظہر

بہ ظاہر بندہ فرزانہ بنایا

اے مرکزؔ تجھ سے ہے سب شان ظاہر

عجب آئینہ شاہانہ بنایا