یاد خدا سے آیا نہ ایماں کسی طرح

Yasin Ali Khan Markaz

یاد خدا سے آیا نہ ایماں کسی طرح

کافر بنے نہ ہم نہ مسلماں کسی طرح

کرتے ہو وعدہ آنے کا ہے آنکھ منتظر

کب تک گزارے دن یہ ہے مہماں کسی طرح

آزاد عشق یار نے ہم کو بنا دیا

مال و متاع کا ہوں نہ میں خواہاں کسی طرح

پیتے رہو شراب جہاں تک کہ ہو سکے

شاغل نہ چھوٹے ساقی کا داماں کسی طرح

آ جاویں گر نصیب سے عالم ہے نزع کا

نکلے ہمارے دل کے بھی ارماں کسی طرح

مر جاؤں ان کے تیر نگہ سے نجات ہو

گردن پہ میرے ان کا ہو احساں کسی طرح

زنداں ہیں پھنس گیا دل مضطر نگاہ کے

بیٹھے ہیں پاسباں بنے مژگاں کسی طرح

بعد فنا بھی قبر کو مسمار کر دیا

اظہار رنج کا نہ ہو ساماں کسی طرح

ادوار میں اگرچہ ہے مرکزؔ گھرا ہوا

چھوڑے نہ تجھ کو رحمت سبحاں کسی طرح