ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تو

Yasin Ali Khan Markaz

ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تو

وائے اپنے سے بے خبر ہے تو

شان حق آشکار ہے تن سے

موجد کلّ خیر و شر ہے تو

ایک میں کیا وجود جملہ ظہور

کل میں خود آپ با اثر ہے تو

قدرت کاملہ کو غور تو کر

بحر یکتائی کا گہر ہے تو

میٹ اپنی خودی خدا کو پا

نفع حاصل ہو کیا اگر ہے تو

مقتدر آپ ہر سبب کا ہے

اس لئے ہو گیا بشر ہے تو

خیر و شر کے حجاب میں کب تک

ظلمت کفر کا سحر ہے تو

تیری ہی شان کل ہویدا ہے

بندہ کہتا ہے کیوں کدھر ہے تو

آپ ہر شے میں جلوہ فرما ہیں

بے خبر کیا ہے با خبر ہے تو

مجھ پہ الزام آ نہیں سکتا

ہر طرح سے ادھر ادھر ہے تو

کوئی کچھ قلب کیا کرے تجھ کو

بے غل و غش وہ صاف زر ہے تو

کہہ رہا ہے ہمیشہ اِنی انا

جملہ اعمیٰ کا راہبر ہے تو

جو ہے منظور ہو رہا وہی

کس نتیجہ کا منتظر ہے تو

بالیقیں حق کی شان ہے تیری

مختصر یہ ہے مختصر ہے تو

نام تیرا خدا نما ہے حجاب

دیدۂ دید کا بصر ہے تو

کوئی پاتا نہیں تجھے مرکزؔ

دو بہ دو آپ جلوہ گر ہے تو