جہاں بات وحدت کی گہری رہے گی

Yasin Ali Khan Markaz

جہاں بات وحدت کی گہری رہے گی

وہاں فکر اپنی نہ تیری رہے گی

لجاجت امیروں سے یک دم اٹھا دے

قناعت سے اپنی فقیری رہے گی

نہ جینے کی خواہش نہ مرنے کا غم ہے

جو حالت ہے اپنی وہ ٹھہری رہے گی

مجلہ ہوا جب سے دل ہے ہمارا

نہ مرقد میں اپنے اندھیری رہے گی

گھمنڈ ہر طرح کرنا زیبا نہیں ہے

جوانی کسی کی نہ پیری رہے گی

خدائی کی قدرت خودی سے ہے مرکزؔ

مقلد ہیں جب تک اسیری رہے گی