شرک کا پردہ اٹھایا یار نے

Yasin Ali Khan Markaz

شرک کا پردہ اٹھایا یار نے

ہم کو جب اپنا بنایا یار نے

روز روشن کی طرح دیکھا اسے

گرچہ منہ اپنا چھپایا یار نے

ظاہراً موجود ہے ہر شان سے

ہر طرح رخ کو دکھایا یار نے

خویش و بیگانہ فقط کہنے کو ہے

اپنا دیوانہ بنایا یار نے

بندہ بن جانا فقط چھپنے کو ہے

گھر کو ویرانہ بنایا یار نے

پھیر گردوں سے ہے صورت ہر طرح

جسم کا شانہ بنایا یار نے

تو وہ مرکزؔ ہے خدائی کا ظہور

خط فاصل کو بنایا یار نے