غفلت عجب ہے ہم کو دم جس کا مارتے ہیں

Yasin Ali Khan Markaz

غفلت عجب ہے ہم کو دم جس کا مارتے ہیں

موجود ہے نظر میں جس کو پکارتے ہیں

ہم آئینہ ہیں حق کے حق آئینہ ہے اپنا

مستی میں اپنی ہر دم دم حق کا مارتے ہیں

ہم اپنے آپ طالب مطلوب آپ ہم ہیں

اس کھیل میں ہمیشہ ہم خود کو ہارتے ہیں

جنت کی ہم کو خواہش دوزخ کا ڈر نہیں ہے

بے اصل مفت واعظ ہم کو ابھارتے ہیں

ظاہر ہے حق کا جلوہ گر آنکھ ہو تو دیکھے

مرکزؔ خدا کو عالم بھولے پکارتے ہیں