عاشقی کے آشکارے ہو چکے

Yasin Ali Khan Markaz

عاشقی کے آشکارے ہو چکے

حسن یکتا کے پکارے ہو چکے

اٹھ گیا پردہ جو فی مابین تھا

من و تو کے تھے اشارے ہو چکے

ہے بہار گلشن دنیا دو روز

بلبل و گل کے نظارے ہو چکے

چل دیئے اٹھ کر جہاں چاہے وہاں

ایک رنگی کے سہارے ہو چکے

یاس سے کہہ دیں گے وقت قتل ہم

ہم تو اے پیارے تمہارے ہو چکے

واصل دریا جو قطرہ ہو گیا

غیریت کے تھے پکارے ہو چکے

گلشن ہستی میں دیکھی تھی بہار

اوج پر جو تھے ستارے ہو چکے

ورطۂ دریا کا غم جاتا رہا

غوطہ کھاتے تھے کنارے ہو چکے

نیک و بد سے تم کو مرکزؔ کیا غرض

دور دشمن تھے تمہارے ہو چکے