جو نظر کیا میں صفات میں ہوا مجھ پہ کب یہ عیاں نہیں

Yasin Ali Khan Markaz

جو نظر کیا میں صفات میں ہوا مجھ پہ کب یہ عیاں نہیں

مری ذات عین کی عین ہے وہاں دوسری کا نشاں نہیں

وہی دو جہاں میں ہے مفتخر جیسے عینیت کی ہوئی خبر

وہی حکمراں ہے جہان میں وہاں کفر و دیں کا گماں نہیں

رہے غیریت کے حجاب میں جو خدا نما سے نہیں ملے

جو خدا کو ان سے طلب کئے رہی بات ان پہ نہاں نہیں

جسے ہو ثبوت وجود کا وہی حق شناس ہے با خبر

انہیں جملہ آوے خدا نظر وہ خدا کو دیکھے کہاں نہیں

میں وطن میں آپ سفر کیا جو قدم کو اپنی نظر کیا

ملا اپنا آپ پتہ مجھے جہاں غیریت کا بیاں نہیں

میں تو ایک مرکزؔ دہر ہوں جو خدا نما کے نشان سے

جو بتاؤں حق کا پتہ جسے رہے باقی اس کو گماں نہیں