کشتی میں کپی تیل کی انا انڈیل ڈال
سعادت یار خان رنگینکشتی میں کپی تیل کی انا انڈیل ڈال
سوکھے ہیں بال آ کے مرے سر میں تیل ڈال
یا رب شب جدائی تو ہرگز نہ ہو نصیب
بندی کو یوں جو چاہے تو کولہو میں پیل ڈال
باجی نہ کر نصیحت بے جا جلے ہے دل
ہے آگ سی جو سینے میں اس کو کڑیل ڈال
ہوگا جو اس کا وصل تو تھل بیٹھیو رے جی
یہ ہجر کے جو دن ہیں تو اب ان کو جھیل ڈال
چڑھ مست ہے ددا کہیں اس کی یہ چل بجھے
رنگیںؔ خدا کے واسطے تو اس کو کھیل ڈال