جدا اس سے بھلا کب تک رہوں میں

سعادت یار خان رنگین

جدا اس سے بھلا کب تک رہوں میں

بری اس سے بھلا کب تک رہوں میں

طبیعت چاہتی ہے اس کو میری

کھنچی اس سے بھلا کب تک رہوں میں

لڑا کرتا ہے وہ مجھ سے ہمیشہ

ملی اس سے بھلا کب تک رہوں میں

جھپٹتا ہے وہ سو سو بار آکر

بچی اس سے بھلا کب تک رہوں میں

برا مجھ کو سمجھتا ہے جو رنگینؔ

بھلی اس سے بھلا کب تک رہوں میں