میں تو کچھ کہتی نہیں شوق سے سو باری چیخ
سعادت یار خان رنگینمیں تو کچھ کہتی نہیں شوق سے سو باری چیخ
نام لے کر مری دائی کا ددا ماری چیخ
اڑ گئے مغز کے کیڑے تو ادھر کیوں ہے کھڑی
میری چندیا پہ کھڑی ہو کے ادھر آ ری چیخ
لے میں کہتی ہوں کہ سر پیٹ کے چونڈے کو کھسوٹ
نوچ نوچ اپنا تو منہ شوق سے کر زاری چیخ
لوگ یاں چونک اٹھے اپنے پرائے سارے
مر مٹی تو نے غضب ایسی ہی اک ماری چیخ
تس پہ مکراتی ہے مردار اری شابش ری
تیرے منہ سے ابھی نکلی ہی نہیں ساری چیخ
ہے یہ قحبہ اسے رنگیںؔ کے حوالے کر دے
میری انا کو دوگانا میں ترے واری چیخ