Poetry
Poet
Meter
- جسم گھیر لیتی ہے پھر بھی زرد تنہائیتتلیوں میں دن گزرا جگنوؤں میں رات آئیOsama Khalid (b. 1998)
- جہان گریہ جو آدم کو خلد کا دکھ ہےاسی لحاظ سے دھرتی ہوا خلا دکھ ہےOsama Khalid (b. 1998)
- خاموشی کی رمز سجھابول رہا ہے بولتا جاOsama Khalid (b. 1998)
- درد تیرا تھا ترے یار سے لگ کر رویایعنی بیمار تھا بیمار سے لگ کر رویاOsama Khalid (b. 1998)
- درون خواب کوئی شکل مسکراتی ہےمیں چپ رہوں تو مرے ساتھ گنگناتی ہےOsama Khalid (b. 1998)
- دل میں رہے وہ شخص رگوں میں رواں نہ ہومیں چاہتا ہوں زخم جگر کا نشاں نہ ہوOsama Khalid (b. 1998)
- ڈرا رہی تھی مجھے اور ڈر لیا میں نےپھر ایک روز محبت کا سر لیا میں نےOsama Khalid (b. 1998)
- رات جھٹکے سے مری نیند کھلی ٹوٹ گئیکانچ کی چیز تھی ٹیبل سے گری ٹوٹ گئیOsama Khalid (b. 1998)
- سخت وحشی ہوں بلا وجہ بپھر جاتا ہوںاس لیے اپنی طرف جاؤں تو ڈر جاتا ہوںOsama Khalid (b. 1998)
- سیاہ کمرے میں جب صبح کا اجالا ہوازمین بوس ہوا میں فلک سے ٹپکا ہواOsama Khalid (b. 1998)
- قفل کھلیں گے اور مگرمچھوں کا منہ کھل جائے گاکیا معلوم اس دل کے غار سے کیا کیا سامنے آئے گاOsama Khalid (b. 1998)
- کبھی ہوتا ہے پریشاں کبھی شرماتا ہےآئینہ میرے خد و خال سے گھبراتا ہےOsama Khalid (b. 1998)
- کچھ بھولی اور کچھ تیکھی آوازیں ہیںجیسے چہرے ہیں ویسی آوازیں ہیںOsama Khalid (b. 1998)
- کس کا عکس نمایاں ہوگا ایسے گدلے پانی میںسورج ڈوب گیا ہے میرے آنگن کی ویرانی میںOsama Khalid (b. 1998)
- کنڈی بجا کے اس لیے بھاگا نہیں ہوں میںدکھتا نہیں کسی کو تو سوچا نہیں ہوں میںOsama Khalid (b. 1998)
- کوئی ملال ہوں دکھ ہوں بتاؤ کیا ہوں میںدنوں کے بعد کسی شخص کو دکھا ہوں میںOsama Khalid (b. 1998)
- میرا سایہ بھی اگر باب طرب تک آیاکہنا بد نام زمانہ تھا نسب تک آیاOsama Khalid (b. 1998)
- وقت کی زنبیل پلٹی اور اس تک جا گراجسم کا کشکول جس نے بد دعا سے بھر دیاOsama Khalid (b. 1998)
- بارہویں مرتبہموت کا خواب تکمیل تک آتے آتے کہیں رہ گیا ہےOsama Khalid (b. 1998)
- تری سرمئی آنکھ سے بہنے والا سیہ اشکجس نے ملال اوڑھ کر تیری تکمیل کیOsama Khalid (b. 1998)
- سمندر کی لہروں میںلٹکے لبادے سا لاغر بدن یہ ہینگر پہOsama Khalid (b. 1998)
- مجھے حسرت ہےمیرا نظم کردہ فلسفہ تم کو سمجھ آئےOsama Khalid (b. 1998)
- مختصر وقت میں بربادی کا اندازہ کرواس تعلق سے پرانے تو مرے کپڑے ہیںOsama Khalid (b. 1998)
- اب یہ گل گلنار کب ہے خار ہے بیکار ہےآپ نے جب کہہ دیا بیکار ہے بیکار ہےCharagh Sharma (b. 1998)
- اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیںاڑنے والے اڑتے اڑتے اڑتے ہیںCharagh Sharma (b. 1998)
- اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اورکہتا ہے ہر گلاس پہ بس اک گلاس اورCharagh Sharma (b. 1998)
- تتلی سے دوستی نہ گلابوں کا شوق ہےمیری طرح اسے بھی کتابوں کا شوق ہےCharagh Sharma (b. 1998)
- تمہارا کیا ہے تمہیں صرف گیان دینا ہےہماری سوچو ہمیں امتحان دینا ہےCharagh Sharma (b. 1998)
- تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے میںمیرا بستر لگوا دو میخانے میںCharagh Sharma (b. 1998)
- چمن میں کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہےیہاں جو آتا ہے پھولوں کے گال کھینچتا ہےCharagh Sharma (b. 1998)
- عموماً ہم اکیلے بیٹھتے ہیںوہ بیٹھا ہے تو چلئے بیٹھتے ہیںCharagh Sharma (b. 1998)
- کچھ اس طرح دل سے عشق اس کا نکالنا ہےبغیر گلک کو توڑے سکہ نکالنا ہےCharagh Sharma (b. 1998)
- محاذ جنگ سے پہلے کہیں پڑاؤ بناؤندی پہ باندھ بنانے سے پہلے ناؤ بناؤCharagh Sharma (b. 1998)
- وہ صرف قصے کہانیوں کے معاملے تھے چراغ رکھ دےچراغ گھسنے سے کوئی جن ون نہیں نکلتے چراغ رکھ دےCharagh Sharma (b. 1998)
- وہ ہنس کے دیکھتی ہوتی تو اس سے بات کرتےکوئی امید بھی ہوتی تو اس سے بات کرتےCharagh Sharma (b. 1998)
- ہمارا عشق بھی یارانے کی کگار پہ تھاجب اس نے پیار کہا تھا زور یار پہ تھاCharagh Sharma (b. 1998)
- مرا کمرے سے بس نیندوں کا رشتہ تھااور اس زینے سے خوابوں کاCharagh Sharma (b. 1998)
- اب کے ملی شکست مری اور سے مجھےجتوا دیا گیا کسی کمزور سے مجھےCharagh Sharma (b. 1998)
- تمہیں یہ غم ہے کہ اب چٹھیاں نہیں آتیںہماری سوچو ہمیں ہچکیاں نہیں آتیںCharagh Sharma (b. 1998)
- خطائیں اس لئے کرتا ہوں میں کہ جانتا ہوںسزا مجھے ہی ملے گی خطا کروں نہ کروںCharagh Sharma (b. 1998)
- کوئی خط وت نہیں پھاڑا کوئی تحفہ نہیں توڑاکہ وہ دیکھے تو خود سوچے کہ دل توڑا نہیں توڑاCharagh Sharma (b. 1998)
- میرؔ جی عشق مانا کہ نعمت نہیں پر میں اس کو بلا بھی نہیں مانتامانتا ہوں خدائے سخن بھی تمہیں اور حکم خدا بھی نہیں مانتاCharagh Sharma (b. 1998)
- میں نے قبول کر لیا چپ چاپ وہ گلابجو شاخ دے رہی تھی تری اور سے مجھےCharagh Sharma (b. 1998)
- وہ شانت بیٹھا ہے کب سے میں شور کیوں نہ کروںبس ایک بار وہ کہہ دے کہ چپ تو چوں نہ کروںCharagh Sharma (b. 1998)
- ہاتھ بھر دوری پہ ہے قسمت کی چابی آپ کیایک چھوٹا سا قدم اور کامیابی آپ کیCharagh Sharma (b. 1998)
- بندھ جائیں سامان طنابیں کھل جائیںکاش خدا پر میری دعائیں کھل جائیںPallav Mishra (b. 1998)
- تمہاری دنیا کے باہر اندر بھٹک رہا ہوںمیں بعد ترک جہاں یہیں پر بھٹک رہا ہوںPallav Mishra (b. 1998)
- تمہیں آنسو بہانے کو بھی مل جائیں کئی کندھےمگر مجھ کو اذیت میں پریشاں کون دیکھے گاPallav Mishra (b. 1998)
- ثبات دل تھا مگر بیقرار ہو گیا تھاوہ نور میری حرارت سے نار ہو گیا تھاPallav Mishra (b. 1998)
- دنیا جہاں کے جام چھلک جائیں ریت پرکیا کیجیے کہ ہونٹ بہک جائیں ریت پرPallav Mishra (b. 1998)