مرا کمرے سے بس نیندوں کا رشتہ تھا
Charagh Sharma (b. 1998)مرا کمرے سے بس نیندوں کا رشتہ تھا
اور اس زینے سے خوابوں کا
جو لہراتا ہوا جاتا تھا چھت تک
وہ چھت
جہاں سے آسماں نزدیک تھا
جہاں آرام فرماتی تھیں آنکھیں
وو آنکھیں جن میں سپنے تھے
وہ سپنے جن میں دنیا تھی
وہ دنیا جس میں سب کچھ تھا
وہی چھت
جہاں پر ایک چڑیا کی سریلی چہچہاہٹ تھی
پتنگوں کی سجاوٹ تھی
فلک کی جھلملاہٹ تھی
مگر افسوس
وہ چڑیا جو سویرے گھر میں سب سے پہلے اٹھتی تھی
کسے معلوم تھا اک دن وہ زیر دام آئے گی
پتنگ کاغذی جو آسماں چھونے ہی والی تھی
کسے معلوم تھا وہ لوٹ کر ناکام آئے گی
فلک جس پر تمناؤں کے کتنے چاند روشن تھے
کسے معلوم تھا اس پر اماوس کی بھی کوئی شام آئے گی
وہ چھت جو گھر کا سب سے پر سکوں اور پیارا حصہ تھی
کسے معلوم تھا وہ خودکشی کے کام آئے گی