تری سرمئی آنکھ سے بہنے والا سیہ اشک
Osama Khalid (b. 1998)تری سرمئی آنکھ سے بہنے والا سیہ اشک
جس نے ملال اوڑھ کر تیری تکمیل کی
میں نے جو بھی کیا
اپنے اندر کا وحشی جگا کر ترے سامنے سر بہ زانو کیا
تیری تکمیل کی
اب مجھے بھی اذیت کی بابت میں کوئی ستارہ بدن چاہیے
اپنے اندر کے شور و شغب سے نکل کر مری بات سن
شاخ امید پر کوئی کانٹا کھلا
مجھ کو واپس بلا