Poetry
Poet
Meter
- جب بھی تقدیر کا ہلکا سا اشارہ ہوگاآسماں پر کہیں میرا بھی ستارہ ہوگاAalok Shrivastav (b. 1971)
- جن باتوں کو کہنا مشکل ہوتا ہےان باتوں کو سہنا مشکل ہوتا ہےAalok Shrivastav (b. 1971)
- جھلملاتے ہوئے دن رات ہمارے لے کرکون آیا ہے ہتھیلی پہ ستارے لے کرAalok Shrivastav (b. 1971)
- دھڑکتے سانس لیتے رکتے چلتے میں نے دیکھا ہےکوئی تو ہے جسے اپنے میں پلتے میں نے دیکھا ہےAalok Shrivastav (b. 1971)
- دھوپ ہوئی تو آنچل بن کر کونے کونے چھائی اماںسارے گھر کا شور شرابہ سونا پن تنہائی اماںAalok Shrivastav (b. 1971)
- گھر کی بنیادیں دیواریں بام و در تھے بابو جیسب کو باندھ کے رکھنے والا خاص ہنر تھے بابو جیAalok Shrivastav (b. 1971)
- منزل پہ دھیان ہم نے ذرا بھی اگر دیاآکاش نے ڈگر کو اجالوں سے بھر دیاAalok Shrivastav (b. 1971)
- وہی آنگن وہی کھڑکی وہی در یاد آتا ہےاکیلا جب بھی ہوتا ہوں مجھے گھر یاد آتا ہےAalok Shrivastav (b. 1971)
- ہر بار ہوا ہے جو وہی تو نہیں ہوگاڈر جس کا ستاتا ہے ابھی تو نہیں ہوگاAalok Shrivastav (b. 1971)
- ہمیشہ زندگی کی ہر کمی کو جیتے رہتے ہیںجسے ہم جی نہیں پاے اسی کو جیتے رہتے ہیںAalok Shrivastav (b. 1971)
- یہ اور بات دور رہے منزلوں سے ہمبچ کر چلے ہمیشہ مگر قافلوں سے ہمAalok Shrivastav (b. 1971)
- یہ سوچنا غلط ہے کہ تم پر نظر نہیںمصروف ہم بہت ہیں مگر بے خبر نہیںAalok Shrivastav (b. 1971)
- بات کرو تو لفظوں سے بھی خوشبو آتی ہےلگتا ہے اس لڑکی کو بھی اردو آتی ہےAalok Shrivastav (b. 1971)
- اس کو نذرانۂ جاں پیش کیا ہے میں نےیوں ثبوت اپنی وفاؤں کا دیا ہے میں نےQamar Anjum (b. 1971)
- جذبۂ عشق کا اظہار نہ ہونے پائےحسن رسوا سر بازار نہ ہونے پائےQamar Anjum (b. 1971)
- دل میں جب سے ہوا قیام تراہر کوئی پوچھتا ہے نام تراQamar Anjum (b. 1971)
- رابطہ رکھ تیرگی سے روشنی کو چھوڑ دےجو اذیت ناک ہو ایسی خوشی کو چھوڑ دےQamar Anjum (b. 1971)
- شام وعدہ ہے اگر اب بھی نہ وہ آئے تو پھراور اس غم میں جو دھڑکن دل کی رک جائے تو پھرQamar Anjum (b. 1971)
- کوئی باہر سے کوئی اندر اندر ٹوٹ جاتا ہےجب انساں آتا ہے گردش کی زد پر ٹوٹ جاتا ہےQamar Anjum (b. 1971)
- محبت زندگی ہے زندگی کا نام مستی ہےاگر مستی نہ ہو تو زندگی مٹی سے سستی ہےQamar Anjum (b. 1971)
- مرے خدا نہ مجھے ذوق خود نمائی دےجو دینا ہے مجھے توفیق پارسائی دےQamar Anjum (b. 1971)
- وہ جان انتظار آئے نہ آئےمرے دل کو قرار آئے نہ آئےQamar Anjum (b. 1971)
- ایک تو عشق کی تقصیر کئے جاتا ہوںاس پہ میں پیروی میرؔ کئے جاتا ہوںNaeem Gilani (b. 1972)
- جو خواب میں ہوا تھا واقعی نہ ہوکہ میں پکارتا رہوں کوئی نہ ہوNaeem Gilani (b. 1972)
- حد سے بڑھتی ہوئی تعزیر میں دیکھا جائےخواب کو خواب کی تعبیر میں دیکھا جائےNaeem Gilani (b. 1972)
- طلوع صبح سفر کی گھڑی تھی یاد آیاجدائی راستہ روکے کھڑی تھی یاد آیاNaeem Gilani (b. 1972)
- کہیں پہ رکتے ہوئے اور کہیں گزرتے ہوئےخجل تو خوب ہوئے ناظریں گزرتے ہوئےNaeem Gilani (b. 1972)
- مثال موجۂ خوشبو بکھر گئے مرے دنگزر گئیں مری راتیں گزر گئے مرے دنNaeem Gilani (b. 1972)
- میں کس سے پوچھتا کہ بھلا کیا کمی ہوئیتھا شور جس گلی میں وہاں خامشی ہوئیNaeem Gilani (b. 1972)
- نشیب ہجر میں دن اختتام کرتے ہوئےمیں خود میں ڈوبتا جاتا تھا شام کرتے ہوئےNaeem Gilani (b. 1972)
- یوں سنگ انتظار سے کب تک بندھے رہیںدیوار نارسائی ہی کیوں دیکھتے رہیںNaeem Gilani (b. 1972)
- اتنی دیر سمیٹوں سارے دکھ تیرےجتنی دیر اے دوست بکھر نہیں جاتا میںNaeem Gilani (b. 1972)
- موت سے آگے تک کے منظر دیکھے ہیںتنہائی سے یوں ہی ڈر نہیں جاتا میںNaeem Gilani (b. 1972)
- سسکتی زندگی کو زندگانی کون دیتا ہےخزاں کے بعد پھر سے رت سہانی کون دیتا ہےSabiha Sadaf (b. 1972)
- میرے اشعار کو معیار پہ تولا جائےفن کو رکھ کر کسی فن کار پہ تولا جائےSabiha Sadaf (b. 1972)
- نہ کوئی الجھن نہ دل پریشاں نہ کوئی درد نہاں تھا پہلےہمارے ہاتھوں میں تتلیاں تھیں یہ دل بہت شادماں تھا پہلےSabiha Sadaf (b. 1972)
- ہوش و خرد سے دور دور وہم و گماں کے آس پاسکرتا ہے دل طواف کیوں دشمن جاں کے آس پاسSabiha Sadaf (b. 1972)
- ہو نظر ایسی کہ بس دل کی نگاہ تک پہنچےدل میں اترے تو کبھی حال تباہ تک پہنچےSabiha Sadaf (b. 1972)
- یوں زندگی کو زیر و زبر کر رہے ہیں ہمہر دن ہی گردشوں میں بسر کر رہے ہیں ہمSabiha Sadaf (b. 1972)
- بستی بستی شور مچا ہےصحرا میں اک چاند سجا ہےM I Zaahir (b. 1972)
- پھول اگر کمھلائیں گےغنچے پھر کھل جائیں گےM I Zaahir (b. 1972)
- لو بڑھی اور بھی بڑھانے سےجل اٹھے ہیں دیے پرانے سےM I Zaahir (b. 1972)
- لہجہ وہی گفتگو وہی ہےصورت کتنی بدل گئی ہےM I Zaahir (b. 1972)
- موج کے ساتھ تھا کنارا بھیخوب تھا آنکھ میں نظارہ بھیM I Zaahir (b. 1972)
- تری رحمتوں کا طالب مجھے آس تیرے در سےیہ قدم بہک نہ جائے مری مفلسی کے ڈر سےEjaz Parwana (b. 1972)
- سب منافق ہی نظر آتے ہیں باطل کے سواہیں سبھی شاد مرے قتل پہ قاتل کے سواEjaz Parwana (b. 1972)
- مصیبت کے بھنور میں بھی شناور وہ سنبھلتا ہےیقیں ہو جس کو خود پر وہ تلاطم سے نکلتا ہےEjaz Parwana (b. 1972)
- ملا قطرہ تو کرتے کیوں شکایت تم مقدر کیگلہ قسمت کا ہے پھر کیوں نہ کوشش کی سمندر کیEjaz Parwana (b. 1972)
- کوئی آواز تھی جس کے تلاطم میںیوں بہہ جانا کہاں منظور مجھ کو تھاTabassum Fatma (1972–2021)
- جب پرندے لہولہان ہو کر آسمان سے گر رہے تھےمیں پانی کے قطرے سے موتی چن رہی تھیTabassum Fatma (1972–2021)