Poetry
Poet
Meter
- کتنی سزا ملی ہے مجھے عرض حال پرپہرے لگے ہوئے ہیں مری بول چال پرJafar Baluch (b. 1947)
- کشاد ذہن و دل و گوش کی ضرورت ہےیہ زندگی ہے یہاں ہوش کی ضرورت ہےJafar Baluch (b. 1947)
- وہ شخص میری رسائی سے ماورا بھی نہ تھابشر بھی خیر نہ ہوگا مگر خدا بھی نہ تھاJafar Baluch (b. 1947)
- ہر ایک حال میں چلنے سے جس کو کام رہاوہ شخص قاعد یاران تیزگام رہاJafar Baluch (b. 1947)
- اب فراق و وصال بار ہوئےعمر گزری ہے بے قرار ہوئےJafar Abbas (1947–2022)
- ابھی تو محو تجلی ہیں سب دکانوں پرپلٹ کے دیکھیے آتے ہیں کب مکانوں پرJafar Abbas (1947–2022)
- اپنے لیل و نہار کی باتیںجبر کی اختیار کی باتیںJafar Abbas (1947–2022)
- اک اک کر کے ہو گئے رخصت اب کوئی ارمان نہیںدل میں گہرا سناٹا ہے اب کوئی مہمان نہیںJafar Abbas (1947–2022)
- عجیب بات تھی ہر شعر پر اثر ٹھہرامیں اس کی بزم میں کل رات با ہنر ٹھہراJafar Abbas (1947–2022)
- واہ کیا دور ہے کیا لوگ ہیں کیا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ کہ جو کہئے تو گلا ہوتا ہےJafar Abbas (1947–2022)
- ہم ہی نے سیکھ لیا رہ گزر کو گھر کرناوگرنہ اس کی تو عادت ہے در بہ در کرناJafar Abbas (1947–2022)
- بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہےفنا نصیب ہر اک سلسلہ اداسی ہےIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- ترے قریب رہوں یا کہ دور جاؤں میںہے دل کا ایک ہی عالم تجھی کو چاہوں میںIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گادور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گاIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیںمگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیںIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- وہ نہیں ملتا مجھے اس کا گلا اپنی جگہاس کے میرے درمیاں کا فاصلہ اپنی جگہIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- وہ اپنی نفرتوں کو کہاں جا کے بانٹتااس کے لئے تو شہر میں آسان میں ہی تھاIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- جلوے کو پردا پردے کو جلوہ بنا دیااہل نظر کو تم نے تماشہ بنا دیاVed Prakash Malik Sarshar (1947–2004)
- سینکڑوں غم کی سوغات دے کر مجھےپھر یہ کہتے ہیں ہم نے دیا کچھ نہیںVed Prakash Malik Sarshar (1947–2004)
- کچھ ملے یا نہ ملے ملتے ملاتے رہیےشوق اچھا ہے اسے خوب بڑھاتے رہیےVed Prakash Malik Sarshar (1947–2004)
- کہاں تک سنو گے زمانے کی باتیںیہ اک دوسرے کو لڑانے کی باتیںVed Prakash Malik Sarshar (1947–2004)
- مشکلوں میں پڑ گئے اپنا خدا کہہ کر تجھےتو ہی کہہ دے ہم پکاریں اور کیا کہہ کر تجھےVed Prakash Malik Sarshar (1947–2004)
- جوش ہر موج میں اچھال کا تھاحوصلہ ہم میں بھی کمال کا تھاZafar Aziz (b. 1947)
- لڑکیاں گھر میں نکھر آئی ہیں پھولوں کی طرحوقت ٹھہرا ہے مگر سوکھی ببولوں کی طرحZafar Aziz (b. 1947)
- نئی راہوں پہ چلنا چاہتا ہےزمانہ پھر بدلنا چاہتا ہےZafar Aziz (b. 1947)
- وہ بھی ہو گئے شامل میرے نکتہ چینوں میںمیں نے جن کو پالا تھا اپنی آستینوں میںZafar Aziz (b. 1947)
- بجز متاع دل لخت لخت کچھ بھی نہیںمری نگاہ میں تدبیر و بخت کچھ بھی نہیںRaeesuddin Raees (b. 1948)
- بند ہے آج بھی ترسیل پہ راہ الفاظمیں کہ مضمون ہوں پھر بھی ہوں تباہ الفاظRaeesuddin Raees (b. 1948)
- تمام شہر میں ہے عام کاروبار ہوسکہ چہرے چہرے پہ چسپاں ہے اشتہار ہوسRaeesuddin Raees (b. 1948)
- روز اک خواب مسلسل اور میںرات بھر یادوں کا جنگل اور میںRaeesuddin Raees (b. 1948)
- سفر یہ میرا عجب امتحان چاہتا ہےبلا کے حبس میں بھی بادبان چاہتا ہےRaeesuddin Raees (b. 1948)
- کس کو معلوم تھا اک روز کہ یوں ہونا تھامستقل ضبط کا انجام جنوں ہونا تھاRaeesuddin Raees (b. 1948)
- کوئی ثبوت نہ ہوگا تمہارے ہونے کانہ آیا فن جو قلم خون میں ڈبونے کاRaeesuddin Raees (b. 1948)
- ورق ورق تجھے تحریر کرتا رہتا ہوںمیں زندگی تری تشہیر کرتا رہتا ہوںRaeesuddin Raees (b. 1948)
- ہوا شعور تو خود آگہی کے پر نکلےفصیل ذات میں خوش فہمیوں کے در نکلےRaeesuddin Raees (b. 1948)
- ہوا نمناک ہوتی جا رہی ہےحویلی خاک ہوتی جا رہی ہےRaeesuddin Raees (b. 1948)
- ان کے ہونٹوں کا وہ انداز کہیں اف جیسےاور تصویر مصور کا تصوف جیسےHafeez Momin (b. 1948)
- انوکھا روپ دھارا ہے نرالا قد نکالا ہےذرا سی شاخ نے کیسا بڑا برگد نکالا ہےHafeez Momin (b. 1948)
- باتوں سے تیری بات کی خوشبو نکل پڑےپہچان کا کہیں کوئی پہلو نکل پڑےHafeez Momin (b. 1948)
- تکلفات کے صحرا میں کھو گیا کوئیقریب آ کے بہت دور ہو گیا کوئیHafeez Momin (b. 1948)
- جسے ہے زعم کہ اس نے ہوا کے پر باندھےاگر ہے دم تو ہماری دعا کے پر باندھےHafeez Momin (b. 1948)
- شوخی ادا غرور شرارت خریدئیےچاندی اچھالیے تو قیامت خریدئیےHafeez Momin (b. 1948)
- کچھ کرنے کی مہلت کم ہےاب عمروں میں برکت کم ہےHafeez Momin (b. 1948)
- کیسا چکر کاٹ کے آنا پڑتا ہےتیرے میرے بیچ زمانہ پڑتا ہےHafeez Momin (b. 1948)
- ہر دریچہ دھواں اگلتا ہےبند کمرے میں کون جلتا ہےHafeez Momin (b. 1948)
- آگ سینے میں محبت کی لگاتے کیوں ہیںجب انہیں چھوڑ کے جانا ہے تو آتے کیوں ہیںKailash Guru Swami (b. 1948)
- ٹھکانا ہو نہ ہو پھر بھی ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیںقفس میں رہ کے بھی ہم آشیانہ ڈھونڈ لیتے ہیںKailash Guru Swami (b. 1948)
- دل پر جو تری یاد کا پہرا نہیں ہوتاساگر کی طرح زخم بھی گہرا نہیں ہوتاKailash Guru Swami (b. 1948)
- زندگی خار ہے گلاب بھی ہےزندگی زندگی ہے خواب بھی ہےKailash Guru Swami (b. 1948)
- سخاوتوں کے بہانے سے چھل رہے ہیں لوگنہ جانے کون سے سانچے میں ڈھل رہے ہیں لوگKailash Guru Swami (b. 1948)