Poetry
Poet
Meter
- غم زمانے سے چھپانا ہی پڑاروتے روتے مسکرانا ہی پڑاKailash Guru Swami (b. 1948)
- کیا گھٹا آسماں پہ چھائی ہےجیسے بھر کر شراب لائی ہےKailash Guru Swami (b. 1948)
- وہ نہیں ہے تو کیا جیا جائےزندگی تیرا کیا کیا جائےKailash Guru Swami (b. 1948)
- الم ہے سوز ہے یادیں ہیں غم ہے وحشت ہےمرے نصیب میں جو کچھ بھی ہے غنیمت ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- تم سے محبت کرتا ہوںتم پہ ہر دم مرتا ہوںZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- جنوں کی زندگی ناکام کیوں ہےوفا کا بے وفائی نام کیوں ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- جو ہم پر ہوا ہے کرم دیکھناوہ ڈھائے گا کیا کیا ستم دیکھناZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- ذہن و دل پر غموں کے سائے ہیںجو تھے اپنے وہی پرائے ہیںZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- کچھ حرج نہیں جام جو بیگانہ لگے ہےرندوں سے خفا ساقئ مے خانہ لگے ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- نظر میں خود کو بسا دو تو کوئی بات بنےوفا کے پھول کھلا دو تو کوئی بات بنےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- وہ انساں در حقیقت صاحب کردار ہوتا ہےکہ جس انساں کے دل میں جذبۂ ایثار ہوتا ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- پھر یہ کس نے مجھے جگایا ہےپھر سے خوابوں میں کون آیا ہےOzair Rahman (b. 1949)
- حال دل وہ پوچھنے آنے لگےمرنے والے زندگی پانے لگےOzair Rahman (b. 1949)
- حساب دوستاں در دل نہیں ابپلٹنا باتوں سے مشکل نہیں ابOzair Rahman (b. 1949)
- مجھے اے زندگی آواز مت دےنہیں منزل کوئی پرواز مت دےOzair Rahman (b. 1949)
- اڑتی دیش میں گرد نہیں ہےتمہیں ذرا بھی درد نہیں ہےOzair Rahman (b. 1949)
- کان پک جاتے ہیں دنیا کی شکایت سن کرکس نے جانا ہے تمہیں کس کا یقیں کر لوں میںOzair Rahman (b. 1949)
- یہ سچ ہے اب آزاد ہیں ہممٹی سے سگندھ یہ آتی ہےOzair Rahman (b. 1949)
- شکستہ ہوں مگر دولت بھی ہے حاصل ہوئی ہم کوگزارے ساتھ جو پل قدر اس کی ہو نہیں کس کوOzair Rahman (b. 1949)
- کبھی ان چڑیوں سے بھی پوچھنا ہےتمہارا گھر کہاں ہےOzair Rahman (b. 1949)
- کرتا رہا میں منتیں کم کی نہ کچھ دعاحاصل ہوا نہ کچھ تو خدا بے اثر لگاOzair Rahman (b. 1949)
- ہے پیار کا یہ کھیل کہاں مکر سے خالیلیکن دل ناداں کو دکھانا نہیں آیاOzair Rahman (b. 1949)
- حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تکجانے کیا بیتی ہے دانے پہ شجر ہونے تکDanish Farahi (1949–2023)
- دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتیتمہاری ہم پہ کرم کی نظر نہیں ہوتیDanish Farahi (1949–2023)
- دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلےلطف ایسا نہیں آیا تھا سزا سے پہلےDanish Farahi (1949–2023)
- ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہےوفا شعار نہیں وہ وفا شناس تو ہےDanish Farahi (1949–2023)
- شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیامت پوچھو کہ مجھ پر کیا گزری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیاDanish Farahi (1949–2023)
- کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کروپتھر کو موم خون کو پانی لکھا کروDanish Farahi (1949–2023)
- کس قدر اضطراب ہے یاروزندگی اک عذاب ہے یاروDanish Farahi (1949–2023)
- نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کومیں جانتا ہوں بہت عقل کے فسانے کوDanish Farahi (1949–2023)
- نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہتم اسے خزاں کہو گے کہ بہار کا زمانہDanish Farahi (1949–2023)
- بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئییا ہمارے سامنے یادوں کا لشکر تھا کوئیEhteram Islam (b. 1949)
- توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شایداک شمع جو روشن تھی بجھا دی گئی شایدEhteram Islam (b. 1949)
- حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیاہر کسی کے دھڑ پہ اک فرعون کا سر جم گیاEhteram Islam (b. 1949)
- ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھیطے جو کرنا ہے سفر آگے بھیEhteram Islam (b. 1949)
- سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہوآسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہوEhteram Islam (b. 1949)
- فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملیکشش حیات کو المختصر اسی سے ملیEhteram Islam (b. 1949)
- ساتھ رکھئے کام آئے گا بہت نام خداخوف گر جاگا تو پھر کس کو صدا دی جائے گیEhteram Islam (b. 1949)
- یاد تھا سقراطؔ کا قصہ سبھی کو احترامؔسوچئے ایسے میں بڑھ کر سچ کو سچ کہتا تو کونEhteram Islam (b. 1949)
- آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہاغافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہاSaadat Saeed (b. 1949)
- مرے ققنسا مرے ققنساوہ جو لاوا تیرے دہن میں تھاSaadat Saeed (b. 1949)
- دھول کی آواز میں جل تھل سمندر گم ہوئےدربند چہرے مسخSaadat Saeed (b. 1949)
- سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہےگرفتار ہونے کا موسمSaadat Saeed (b. 1949)
- شام ہنگام تو ہم ہےتصور کے کھٹولوں پہ سجیSaadat Saeed (b. 1949)
- عظیم قاتل گئے زمانوں کے مخفی اوہام کے شکنجوں میںسادہ لوحی کے سکہ سکہ بکاؤ گاہکSaadat Saeed (b. 1949)
- مرے ساتھ سانسوں کی صورتوہ تاریخ کے سارے اوراق میں جاگتا ہےSaadat Saeed (b. 1949)
- میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اےسر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کاSaadat Saeed (b. 1949)
- بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیاایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیاYaseen Afzal (b. 1949)
- پلکوں پہ رکا قطرۂ مضطر کی طرح ہوںباہر سے بھی بے چین میں اندر کی طرح ہوںYaseen Afzal (b. 1949)
- ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہاکتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہاYaseen Afzal (b. 1949)