Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. غم زمانے سے چھپانا ہی پڑاروتے روتے مسکرانا ہی پڑاKailash Guru Swami (b. 1948)
  2. کیا گھٹا آسماں پہ چھائی ہےجیسے بھر کر شراب لائی ہےKailash Guru Swami (b. 1948)
  3. وہ نہیں ہے تو کیا جیا جائےزندگی تیرا کیا کیا جائےKailash Guru Swami (b. 1948)
  4. الم ہے سوز ہے یادیں ہیں غم ہے وحشت ہےمرے نصیب میں جو کچھ بھی ہے غنیمت ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
  5. تم سے محبت کرتا ہوںتم پہ ہر دم مرتا ہوںZafar Adil Quraishi (b. 1948)
  6. جنوں کی زندگی ناکام کیوں ہےوفا کا بے وفائی نام کیوں ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
  7. جو ہم پر ہوا ہے کرم دیکھناوہ ڈھائے گا کیا کیا ستم دیکھناZafar Adil Quraishi (b. 1948)
  8. ذہن و دل پر غموں کے سائے ہیںجو تھے اپنے وہی پرائے ہیںZafar Adil Quraishi (b. 1948)
  9. کچھ حرج نہیں جام جو بیگانہ لگے ہےرندوں سے خفا ساقئ مے خانہ لگے ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
  10. نظر میں خود کو بسا دو تو کوئی بات بنےوفا کے پھول کھلا دو تو کوئی بات بنےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
  11. وہ انساں در حقیقت صاحب کردار ہوتا ہےکہ جس انساں کے دل میں جذبۂ ایثار ہوتا ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
  12. پھر یہ کس نے مجھے جگایا ہےپھر سے خوابوں میں کون آیا ہےOzair Rahman (b. 1949)
  13. حال دل وہ پوچھنے آنے لگےمرنے والے زندگی پانے لگےOzair Rahman (b. 1949)
  14. حساب دوستاں در دل نہیں ابپلٹنا باتوں سے مشکل نہیں ابOzair Rahman (b. 1949)
  15. مجھے اے زندگی آواز مت دےنہیں منزل کوئی پرواز مت دےOzair Rahman (b. 1949)
  16. اڑتی دیش میں گرد نہیں ہےتمہیں ذرا بھی درد نہیں ہےOzair Rahman (b. 1949)
  17. کان پک جاتے ہیں دنیا کی شکایت سن کرکس نے جانا ہے تمہیں کس کا یقیں کر لوں میںOzair Rahman (b. 1949)
  18. یہ سچ ہے اب آزاد ہیں ہممٹی سے سگندھ یہ آتی ہےOzair Rahman (b. 1949)
  19. شکستہ ہوں مگر دولت بھی ہے حاصل ہوئی ہم کوگزارے ساتھ جو پل قدر اس کی ہو نہیں کس کوOzair Rahman (b. 1949)
  20. کبھی ان چڑیوں سے بھی پوچھنا ہےتمہارا گھر کہاں ہےOzair Rahman (b. 1949)
  21. کرتا رہا میں منتیں کم کی نہ کچھ دعاحاصل ہوا نہ کچھ تو خدا بے اثر لگاOzair Rahman (b. 1949)
  22. ہے پیار کا یہ کھیل کہاں مکر سے خالیلیکن دل ناداں کو دکھانا نہیں آیاOzair Rahman (b. 1949)
  23. حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تکجانے کیا بیتی ہے دانے پہ شجر ہونے تکDanish Farahi (1949–2023)
  24. دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتیتمہاری ہم پہ کرم کی نظر نہیں ہوتیDanish Farahi (1949–2023)
  25. دل تھا بے کیف محبت کی خطا سے پہلےلطف ایسا نہیں آیا تھا سزا سے پہلےDanish Farahi (1949–2023)
  26. ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہےوفا شعار نہیں وہ وفا شناس تو ہےDanish Farahi (1949–2023)
  27. شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیامت پوچھو کہ مجھ پر کیا گزری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیاDanish Farahi (1949–2023)
  28. کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کروپتھر کو موم خون کو پانی لکھا کروDanish Farahi (1949–2023)
  29. کس قدر اضطراب ہے یاروزندگی اک عذاب ہے یاروDanish Farahi (1949–2023)
  30. نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کومیں جانتا ہوں بہت عقل کے فسانے کوDanish Farahi (1949–2023)
  31. نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہتم اسے خزاں کہو گے کہ بہار کا زمانہDanish Farahi (1949–2023)
  32. بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئییا ہمارے سامنے یادوں کا لشکر تھا کوئیEhteram Islam (b. 1949)
  33. توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شایداک شمع جو روشن تھی بجھا دی گئی شایدEhteram Islam (b. 1949)
  34. حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیاہر کسی کے دھڑ پہ اک فرعون کا سر جم گیاEhteram Islam (b. 1949)
  35. ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھیطے جو کرنا ہے سفر آگے بھیEhteram Islam (b. 1949)
  36. سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہوآسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہوEhteram Islam (b. 1949)
  37. فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملیکشش حیات کو المختصر اسی سے ملیEhteram Islam (b. 1949)
  38. ساتھ رکھئے کام آئے گا بہت نام خداخوف گر جاگا تو پھر کس کو صدا دی جائے گیEhteram Islam (b. 1949)
  39. یاد تھا سقراطؔ کا قصہ سبھی کو احترامؔسوچئے ایسے میں بڑھ کر سچ کو سچ کہتا تو کونEhteram Islam (b. 1949)
  40. آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہاغافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہاSaadat Saeed (b. 1949)
  41. مرے ققنسا مرے ققنساوہ جو لاوا تیرے دہن میں تھاSaadat Saeed (b. 1949)
  42. دھول کی آواز میں جل تھل سمندر گم ہوئےدربند چہرے مسخSaadat Saeed (b. 1949)
  43. سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہےگرفتار ہونے کا موسمSaadat Saeed (b. 1949)
  44. شام ہنگام تو ہم ہےتصور کے کھٹولوں پہ سجیSaadat Saeed (b. 1949)
  45. عظیم قاتل گئے زمانوں کے مخفی اوہام کے شکنجوں میںسادہ لوحی کے سکہ سکہ بکاؤ گاہکSaadat Saeed (b. 1949)
  46. مرے ساتھ سانسوں کی صورتوہ تاریخ کے سارے اوراق میں جاگتا ہےSaadat Saeed (b. 1949)
  47. میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اےسر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کاSaadat Saeed (b. 1949)
  48. بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیاایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیاYaseen Afzal (b. 1949)
  49. پلکوں پہ رکا قطرۂ‌ مضطر کی طرح ہوںباہر سے بھی بے چین میں اندر کی طرح ہوںYaseen Afzal (b. 1949)
  50. ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہاکتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہاYaseen Afzal (b. 1949)