لڑکیاں گھر میں نکھر آئی ہیں پھولوں کی طرح

Zafar Aziz (b. 1947)

لڑکیاں گھر میں نکھر آئی ہیں پھولوں کی طرح

وقت ٹھہرا ہے مگر سوکھی ببولوں کی طرح

دل تو کہتا ہے کہ ہر ہاتھ پہ بیعت کر لیں

لوگ یوں راہ میں ملتے ہیں رسولوں کی طرح

چھت کو تھامے رہو اس شہر میں انسان ابھی

سر اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں بگولوں کی طرح

تیری شرطوں پہ مجھے زندگی منظور نہیں

میں نے چاہا ہے تجھے اپنے اصولوں کی طرح

دیکھ لینا مری تصویر کو حسرت سے سہی

یاد آؤں جو کبھی میں تجھے پھولوں کی طرح

کل کی تاریخ تمہیں ایسی سزا دے گی ظفرؔ

گھر میں لٹکا دئے جاؤ گے مقولوں کی طرح