وہ بھی ہو گئے شامل میرے نکتہ چینوں میں
Zafar Aziz (b. 1947)وہ بھی ہو گئے شامل میرے نکتہ چینوں میں
میں نے جن کو پالا تھا اپنی آستینوں میں
آئنہ پرکھنے کا تجربہ ہمیں بھی ہے
ایک عمر گزری ہے اپنی مہ جبینوں میں
بارہا محبت کے بیج بو کے دیکھا ہے
نفرتیں ہی اگتی ہیں آج کل زمینوں میں
کیا بچاتے جاں اپنی ہر طرف ہی قاتل تھے
اور جو محافظ تھے مل گئے کمینوں میں
سامنا تو ہونے دو خود ہی جان جاؤ گے
تم کو ہم نے دیکھا ہے صرف دوربینوں میں
نظریہ بدل جائے یا نظر بدل جائے
بال آ ہی جاتے ہیں دل کے آبگینوں میں
اب کہاں ظفرؔ صاحب حسن میں سلیقہ ہے
عشق بھی نہیں ملتا اب کہیں قرینوں میں