ہوا شعور تو خود آگہی کے پر نکلے

Raeesuddin Raees (b. 1948)

ہوا شعور تو خود آگہی کے پر نکلے

فصیل ذات میں خوش فہمیوں کے در نکلے

میں اپنے قتل کا الزام کس کے سر رکھتا

جب اپنے ہاتھ ہی اپنے لہو میں تر نکلے

تری تلاش میں اکثر سفیر یادوں کے

ردائے خواب سر شام اوڑھ کر نکلے

ہوئیں دراز جو مہر سحر کی شمشیریں

تمام جسموں کے سائے بریدہ سر نکلے

جنہیں تلاش تھی شاداب و سبز موسم کی

انہیں کی راہ میں سوکھے ہوئے شجر نکلے