سخاوتوں کے بہانے سے چھل رہے ہیں لوگ
Kailash Guru Swami (b. 1948)سخاوتوں کے بہانے سے چھل رہے ہیں لوگ
نہ جانے کون سے سانچے میں ڈھل رہے ہیں لوگ
مسرتیں نہ جنہیں راس آئیں اوروں کی
غموں کی دھوپ میں بیٹھے پگھل رہے ہیں لوگ
جو خود پرست ہیں انساں مفاد کے پیکر
انہیں کے مکر فریبوں میں ڈھل رہے ہیں لوگ
کہاں میں آ گیا اس بزم میں سکوں کے لئے
یہاں تو آپ ہی آپس میں جل رہے ہیں لوگ
نہ جانے کون سی مشکل میں پھنس گئی دنیا
مثال آتش خاموش جل رہے ہیں لوگ
وہ نیم والی گلی اب نظر نہیں آتی
تمام شہر کا نقشہ بدل رہے ہیں لوگ
ذرا تو گھر سے نکل کر تو دیکھ دنیا کو
ہر ایک گام پہ سوامیؔ بدل رہے ہیں لوگ