کسی کا آہنگ کیف زا ہے کسی کا لہجہ گلو گرفتہ

Saba Naqvi (b. 1940)

کسی کا آہنگ کیف زا ہے کسی کا لہجہ گلو گرفتہ

بقدر عرفان زندگی ہے ہر ایک دل آرزو گرفتہ

یہ کیسی تصویر زندگی ہے جو صفحۂ دہر پر کھنچی ہے

ستم کا خنجر ہے زیر داماں تو آستیں ہے لہو گرفتہ

مسافر کو بہ کو کا یارو نہیں کوئی مستقل ٹھکانہ

حیات ہے آرزو کی ماری مذاق ہے جستجو گرفتہ

کسی کی دنیا اجڑ چکی ہے نصیب کو رو رہا ہے کوئی

کسی کا گلشن ہرا بھرا ہے کوئی ہے ذوق نمو گرفتہ

لباس اندر لباس رہ کر نظر میں جو بے لباس ٹھہرے

بدن چرائے تو کس طرح سے وہ مہوش آبرو گرفتہ

کبھی بھی اس پر خزاں کا سایہ نہ پڑ سکا ہے نہ پڑ سکے گا

نگاہ ساقی کی ایک جنبش ہے لاکھ تسکین دل کا ساماں

صباؔ وہ احساس تشنگی ہے کبھی نہ ہو جو سبو گرفتہ