دفتر میں

Faiyaz Rifat (1940–2022)

دفتر میں

دفتر سے باہر

بھیڑ میں

نیند میں

دوستوں کی

محفلوں میں

دشمنوں کی

صحبتوں میں

چائے کی پیالی پر

قہقہوں میں

چہچہوں میں

ہر لمحہ

ہر آن

تمہارے چہرے سے

جڑی

تلخ آب یادوں کی

پیاس

میرے ذہن کے صحرا میں

ریت کی طرف

اڑتی ہے

ایسے میں مجھے

غرناطہ کے

خانہ بدوشوں کا

ایک گیت

یاد آتا ہے

لو تم بھی سنو

گیت کچھ اس طرح ہے

ایک ایسے شخص کو

پیار کرنا

جو تمہیں نہ چاہتا ہو

پیار ہے

ایک ایسے شخص کو

پیار کرنا

جو تمہیں بھی چاہتا ہو

کاروبار ہے

اور ایسا تو ہر کوئی

کر سکتا ہے

کہو گیت کیسا لگا