Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہاقرار کا سایہ کبھی انکار کا سایہQaisar Siddiqi (1937–2018)
  2. کیوں نہ افسانۂ غم کیف کا عنواں ٹھہرےشدت درد ہی جب درد کا درماں ٹھہرےQaisar Siddiqi (1937–2018)
  3. من بھی شاعر کی طرح تن بھی غزل جیسا ہےیہ ترے روپ کا درپن بھی غزل جیسا ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
  4. منہ پھیر کر وہ سب سے گیا بھی تو کیا گیاکم بخت سارے شہر کو پاگل بنا گیاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  5. میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہوگااس کے دروازے پہ اب تک مرا سایہ ہوگاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  6. وہ رخصت کی گھڑی وہ دیدۂ نم یاد آتے ہیںنہ جانے آج کیوں بھولے ہوئے غم یاد آتے ہیںQaisar Siddiqi (1937–2018)
  7. یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میںاپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میںQaisar Siddiqi (1937–2018)
  8. یہ کیسے جانتا گر شہر میں آیا نہیں ہوتایہاں دیوار ہوتی ہے مگر سایہ نہیں ہوتاQaisar Siddiqi (1937–2018)
  9. کہاں ہو غالبوؔ، میروؔ نظیروؔکہاں ہو میری زلفوں کے اسیروQaisar Siddiqi (1937–2018)
  10. پردیس میں ہوں اور گھنی تیرگی تو ہےپر مطمئن ہوں رات ترے شہر کی تو ہےAabid Adeeb (b. 1937)
  11. جب جب بھی دیکھیے اسے خوں بار سی لگےدنیا ہمیشہ برسر پیکار سی لگےAabid Adeeb (b. 1937)
  12. حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمامآسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمامAabid Adeeb (b. 1937)
  13. سفر کا شوق نہ منزل کی جستجو باقیمسافروں کے بدن میں نہیں لہو باقیAabid Adeeb (b. 1937)
  14. سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیںہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیںAabid Adeeb (b. 1937)
  15. شریک عالم کیف و سرور میں بھی تھاکہ رات جشن میں تیرے حضور میں بھی تھاAabid Adeeb (b. 1937)
  16. کارنامہ اے غم دل کچھ ترا یہ کم نہیںبہہ گئے آنکھوں سے دریا اور آنکھیں نم نہیںAabid Adeeb (b. 1937)
  17. کیسی کیسی راہ میں دیواریں کرتے ہیں حائل لوگپھر بھی منزل پا لیتے ہیں ہم جیسے زندہ دل لوگAabid Adeeb (b. 1937)
  18. گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کاقلب شکستہ اور یہ عالم گداز کاAabid Adeeb (b. 1937)
  19. میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوںکہ یہ بھی کہہ نہیں سکتا میں کون ہوں کیا ہوںAabid Adeeb (b. 1937)
  20. یہ میرے شہر کا اک اور حادثہ ہوگاوہ کل یہاں مرا مہمان بن چکا ہوگاAabid Adeeb (b. 1937)
  21. یہ ہے آب رواں نہ ٹھہرے گاعمر کا کارواں نہ ٹھہرے گاAabid Adeeb (b. 1937)
  22. آرزؤں کو وسعت نہ دواپنے ہی دائرے میں مقید کروAabid Adeeb (b. 1937)
  23. رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو پھر تھم گیا ہےہوائیں تیز ہیں سانسوں کی ہلچل رک گئی ہےAabid Adeeb (b. 1937)
  24. مختلف موضوعات پررات بھر باتیں کرکے وہ لوگAabid Adeeb (b. 1937)
  25. آگ کے شعلے اتارو حلق میںگاڑ دو کیلیں دھڑکتی چھاتیوں میںAabid Adeeb (b. 1937)
  26. پھر مجھے ایسا لگاجیسے کاغذ پر سیاہی پھیلنے سےAabid Adeeb (b. 1937)
  27. کوئی میرے لرزتے ہاتھ میںکاغذ کا پرزہ اور قلم پکڑا رہا تھاAabid Adeeb (b. 1937)
  28. وہ جد و جہد کرنا چاہتا تھامگر جب سے اس نےAabid Adeeb (b. 1937)
  29. یہاں تو نہ پیڑ ہے نہ سایہنہ گھر ہے نہ گھر میں رہنے والےAabid Adeeb (b. 1937)
  30. امیر کارواں ہے تنگ ہم سےہمارا راستا سب سے الگ ہےAabid Adeeb (b. 1937)
  31. آج اچانک پھر یہ کیسی خوشبو پھیلی یادوں کیدل کو عادت چھوٹ چکی تھی مدت سے فریادوں کیUnwan Chishti (1937–2004)
  32. بچے بھی اب دیکھ کے اس کو ہنستے ہیںاس کے منہ پر رنگ برنگے سائے ہیںUnwan Chishti (1937–2004)
  33. تعصب کی فضا میں طعنۂ کردار کیا دیتامنافق دوستوں کے ہاتھ میں تلوار کیا دیتاUnwan Chishti (1937–2004)
  34. جب زلف شریر ہو گئی ہےخود اپنی اسیر ہو گئی ہےUnwan Chishti (1937–2004)
  35. حسن سے آنکھ لڑی ہو جیسےزندگی چونک پڑی ہو جیسےUnwan Chishti (1937–2004)
  36. رات کئی آوارہ سپنے آنکھوں میں لہرائے تھےشاید وہ خود بھیس بدل کر نیند چرانے آئے تھےUnwan Chishti (1937–2004)
  37. رہنے دے تکلیف توجہ دل کو ہے آرام بہتہجر میں تیری یاد بہت ہے غم میں تیرا نام بہتUnwan Chishti (1937–2004)
  38. زندہ باد اے دشت کے منظر زندہ بادشہر میں ہے جلتا ہوا ہر گھر زندہ بادUnwan Chishti (1937–2004)
  39. ساری دنیا میں دانہ ہے اپنے گھر میں کچھ بھی نہیںایسا لگتا ہے اب اس کے کیسۂ زر میں کچھ بھی نہیںUnwan Chishti (1937–2004)
  40. عشق پھر عشق ہے آشفتہ سری مانگے ہےہوش کے دور میں بھی جامہ دری مانگے ہےUnwan Chishti (1937–2004)
  41. کسی کے فیض قرب سے حیات اب سنور گئینفس نفس مہک اٹھا نظر نظر نکھر گئیUnwan Chishti (1937–2004)
  42. کہتے ہیں ازل جس کو اس سے بھی کہیں پہلےایمان محبت پر لائے تھے ہمیں پہلےUnwan Chishti (1937–2004)
  43. مرے شانوں پہ ان کی زلف لہرائی تو کیا ہوگامحبت کو خنک سائے میں نیند آئی تو کیا ہوگاUnwan Chishti (1937–2004)
  44. وہ مسکرا کے محبت سے جب بھی ملتے ہیںمری نظر میں ہزاروں گلاب کھلتے ہیںUnwan Chishti (1937–2004)
  45. یہ حادثوں کا نیا سلسلہ لگے ہے مجھےخود اپنے آپ میں کچھ ٹوٹتا لگے ہے مجھےUnwan Chishti (1937–2004)
  46. آپ سے چوک ہو گئی شایدآپ اور مجھ پہ مہرباں کیا خوبUnwan Chishti (1937–2004)
  47. وہ حادثے بھی دہر میں ہم پر گزر گئےجینے کی آرزو میں کئی بار مر گئےUnwan Chishti (1937–2004)
  48. اب تو وہ بھی مجھ کو تلقین شکیبائی کرےکوئی کس سے شکوۂ آشوب تنہائی کرےGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
  49. اپنے ماضی کی طرح اب بھی درخشندہ ہوںنازش حال ہوں صورت گر آئندہ ہوںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
  50. تم آ گئے جو یہاں رات کے اندھیرے میںہیں چاندنی کا سماں رات کے اندھیرے میںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)