Poetry
Poet
Meter
- کیا چیز ہے عذر لب اظہار کا سایہاقرار کا سایہ کبھی انکار کا سایہQaisar Siddiqi (1937–2018)
- کیوں نہ افسانۂ غم کیف کا عنواں ٹھہرےشدت درد ہی جب درد کا درماں ٹھہرےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- من بھی شاعر کی طرح تن بھی غزل جیسا ہےیہ ترے روپ کا درپن بھی غزل جیسا ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- منہ پھیر کر وہ سب سے گیا بھی تو کیا گیاکم بخت سارے شہر کو پاگل بنا گیاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہوگااس کے دروازے پہ اب تک مرا سایہ ہوگاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- وہ رخصت کی گھڑی وہ دیدۂ نم یاد آتے ہیںنہ جانے آج کیوں بھولے ہوئے غم یاد آتے ہیںQaisar Siddiqi (1937–2018)
- یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میںاپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میںQaisar Siddiqi (1937–2018)
- یہ کیسے جانتا گر شہر میں آیا نہیں ہوتایہاں دیوار ہوتی ہے مگر سایہ نہیں ہوتاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- کہاں ہو غالبوؔ، میروؔ نظیروؔکہاں ہو میری زلفوں کے اسیروQaisar Siddiqi (1937–2018)
- پردیس میں ہوں اور گھنی تیرگی تو ہےپر مطمئن ہوں رات ترے شہر کی تو ہےAabid Adeeb (b. 1937)
- جب جب بھی دیکھیے اسے خوں بار سی لگےدنیا ہمیشہ برسر پیکار سی لگےAabid Adeeb (b. 1937)
- حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمامآسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمامAabid Adeeb (b. 1937)
- سفر کا شوق نہ منزل کی جستجو باقیمسافروں کے بدن میں نہیں لہو باقیAabid Adeeb (b. 1937)
- سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیںہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیںAabid Adeeb (b. 1937)
- شریک عالم کیف و سرور میں بھی تھاکہ رات جشن میں تیرے حضور میں بھی تھاAabid Adeeb (b. 1937)
- کارنامہ اے غم دل کچھ ترا یہ کم نہیںبہہ گئے آنکھوں سے دریا اور آنکھیں نم نہیںAabid Adeeb (b. 1937)
- کیسی کیسی راہ میں دیواریں کرتے ہیں حائل لوگپھر بھی منزل پا لیتے ہیں ہم جیسے زندہ دل لوگAabid Adeeb (b. 1937)
- گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کاقلب شکستہ اور یہ عالم گداز کاAabid Adeeb (b. 1937)
- میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوںکہ یہ بھی کہہ نہیں سکتا میں کون ہوں کیا ہوںAabid Adeeb (b. 1937)
- یہ میرے شہر کا اک اور حادثہ ہوگاوہ کل یہاں مرا مہمان بن چکا ہوگاAabid Adeeb (b. 1937)
- یہ ہے آب رواں نہ ٹھہرے گاعمر کا کارواں نہ ٹھہرے گاAabid Adeeb (b. 1937)
- آرزؤں کو وسعت نہ دواپنے ہی دائرے میں مقید کروAabid Adeeb (b. 1937)
- رگوں میں دوڑتا پھرتا لہو پھر تھم گیا ہےہوائیں تیز ہیں سانسوں کی ہلچل رک گئی ہےAabid Adeeb (b. 1937)
- مختلف موضوعات پررات بھر باتیں کرکے وہ لوگAabid Adeeb (b. 1937)
- آگ کے شعلے اتارو حلق میںگاڑ دو کیلیں دھڑکتی چھاتیوں میںAabid Adeeb (b. 1937)
- پھر مجھے ایسا لگاجیسے کاغذ پر سیاہی پھیلنے سےAabid Adeeb (b. 1937)
- کوئی میرے لرزتے ہاتھ میںکاغذ کا پرزہ اور قلم پکڑا رہا تھاAabid Adeeb (b. 1937)
- وہ جد و جہد کرنا چاہتا تھامگر جب سے اس نےAabid Adeeb (b. 1937)
- یہاں تو نہ پیڑ ہے نہ سایہنہ گھر ہے نہ گھر میں رہنے والےAabid Adeeb (b. 1937)
- امیر کارواں ہے تنگ ہم سےہمارا راستا سب سے الگ ہےAabid Adeeb (b. 1937)
- آج اچانک پھر یہ کیسی خوشبو پھیلی یادوں کیدل کو عادت چھوٹ چکی تھی مدت سے فریادوں کیUnwan Chishti (1937–2004)
- بچے بھی اب دیکھ کے اس کو ہنستے ہیںاس کے منہ پر رنگ برنگے سائے ہیںUnwan Chishti (1937–2004)
- تعصب کی فضا میں طعنۂ کردار کیا دیتامنافق دوستوں کے ہاتھ میں تلوار کیا دیتاUnwan Chishti (1937–2004)
- جب زلف شریر ہو گئی ہےخود اپنی اسیر ہو گئی ہےUnwan Chishti (1937–2004)
- حسن سے آنکھ لڑی ہو جیسےزندگی چونک پڑی ہو جیسےUnwan Chishti (1937–2004)
- رات کئی آوارہ سپنے آنکھوں میں لہرائے تھےشاید وہ خود بھیس بدل کر نیند چرانے آئے تھےUnwan Chishti (1937–2004)
- رہنے دے تکلیف توجہ دل کو ہے آرام بہتہجر میں تیری یاد بہت ہے غم میں تیرا نام بہتUnwan Chishti (1937–2004)
- زندہ باد اے دشت کے منظر زندہ بادشہر میں ہے جلتا ہوا ہر گھر زندہ بادUnwan Chishti (1937–2004)
- ساری دنیا میں دانہ ہے اپنے گھر میں کچھ بھی نہیںایسا لگتا ہے اب اس کے کیسۂ زر میں کچھ بھی نہیںUnwan Chishti (1937–2004)
- عشق پھر عشق ہے آشفتہ سری مانگے ہےہوش کے دور میں بھی جامہ دری مانگے ہےUnwan Chishti (1937–2004)
- کسی کے فیض قرب سے حیات اب سنور گئینفس نفس مہک اٹھا نظر نظر نکھر گئیUnwan Chishti (1937–2004)
- کہتے ہیں ازل جس کو اس سے بھی کہیں پہلےایمان محبت پر لائے تھے ہمیں پہلےUnwan Chishti (1937–2004)
- مرے شانوں پہ ان کی زلف لہرائی تو کیا ہوگامحبت کو خنک سائے میں نیند آئی تو کیا ہوگاUnwan Chishti (1937–2004)
- وہ مسکرا کے محبت سے جب بھی ملتے ہیںمری نظر میں ہزاروں گلاب کھلتے ہیںUnwan Chishti (1937–2004)
- یہ حادثوں کا نیا سلسلہ لگے ہے مجھےخود اپنے آپ میں کچھ ٹوٹتا لگے ہے مجھےUnwan Chishti (1937–2004)
- آپ سے چوک ہو گئی شایدآپ اور مجھ پہ مہرباں کیا خوبUnwan Chishti (1937–2004)
- وہ حادثے بھی دہر میں ہم پر گزر گئےجینے کی آرزو میں کئی بار مر گئےUnwan Chishti (1937–2004)
- اب تو وہ بھی مجھ کو تلقین شکیبائی کرےکوئی کس سے شکوۂ آشوب تنہائی کرےGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- اپنے ماضی کی طرح اب بھی درخشندہ ہوںنازش حال ہوں صورت گر آئندہ ہوںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- تم آ گئے جو یہاں رات کے اندھیرے میںہیں چاندنی کا سماں رات کے اندھیرے میںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)