تم آ گئے جو یہاں رات کے اندھیرے میں
Ghani Ahmad Ghani (b. 1937)تم آ گئے جو یہاں رات کے اندھیرے میں
ہیں چاندنی کا سماں رات کے اندھیرے میں
تمہیں ہے شوق بہت تتلیاں پکڑنے کا
پھرو نہ یوں مری جاں رات کے اندھیرے میں
بھٹکتی پھرتی ہیں روحیں اندھیری راتوں میں
نکل پڑے ہو کہاں رات کے اندھیرے میں
تمہاری یاد نے دل کش بنا دیا ورنہ
یہ دل کشی تھی کہاں رات کے اندھیرے میں
یہاں تو دن کے اجالے میں لوگ ڈرتے ہیں
کہاں چلے ہو میاں رات کے اندھیرے میں
مرا حریف مخاطب ہے مجھ سے یوں جیسے
صدائے شور سگاں رات کے اندھیرے میں
جب آ گئی ہے طبیعت تو فکر کیا واعظ
ملے گا کون یہاں رات کے اندھیرے میں
یہ کس خیال میں گھر سے نکل پڑے ہو غنیؔ
سکوں ملے گا کہاں رات کے اندھیرے میں