Poetry
Poet
Meter
- رنگیں نظراں لالہ رخاں یوں تو بہت ہیںمسحور نگاہ و دل و جاں یوں تو بہت ہیںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- نفس آرزو ہے شعلہ طرازسوز احساس تیری عمر درازGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- وہ تیرے التفات کا موسم گزر گیااچھا ہوا یہ بوجھ بھی سر سے اتر گیاGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- وہ کیوں مغموم و دل برداشتہ ہیںیہ سارے زخم تو خود ساختہ ہیںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- ہے مرے دل میں ہر اک زخم گلستاں جیسےآ گئی راس ہوائے غم جاناں جیسےGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہرسارے منظر ٹوٹ گئے اور کام نہ آیا شہرIftikhar Qaisar (b. 1937)
- تری آواز میں بھی کوئی آوازہ نہیں ہوتاتری باتوں سے اب تو کوئی اندازہ نہیں ہوتاIftikhar Qaisar (b. 1937)
- جو ملا کرتی تھی مجھ کو لکڑیوں کی ٹال پرایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پرIftikhar Qaisar (b. 1937)
- خواہشوں کا ورد یوں مت کر پرائے شہر میںفاختہ مر جائے گی گھٹ کر قبائے شہر میںIftikhar Qaisar (b. 1937)
- دور دور تک سناٹا ہے کوئی نہیں ہے پاسآ جا دریا ہونٹ سے لگ جا پی لے میری پیاسIftikhar Qaisar (b. 1937)
- مری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گاسمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گاIftikhar Qaisar (b. 1937)
- ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئےجس طرح شہری پرندوں سے شجر چھینے گئےIftikhar Qaisar (b. 1937)
- پھول ہنسے اور شبنم روئی آئی صبا مسکائی دھوپیاد کا سورج ذہن میں چمکا پلکوں پر لہرائی دھوپKaif Azimabadi (b. 1937)
- تباہی کا اپنی نشاں چھوڑ آئےورق در ورق داستاں چھوڑ آئےKaif Azimabadi (b. 1937)
- جسم کی قید سے اک روز گزر جاؤ گےخشک پتوں کی طرح تم بھی بکھر جاؤ گےKaif Azimabadi (b. 1937)
- عیش و غم زندگی کے پھیرے ہیںشب کی آغوش میں سویرے ہیںKaif Azimabadi (b. 1937)
- نفس نفس میں ہوں اک بوئے صد گلاب لیےمیں جاگتا ہوں نگاہوں میں تیرے خواب لیےKaif Azimabadi (b. 1937)
- خوشبوئے حنا کہنا نرمیٔ صبا کہناجو زخم ملے تم کو پھولوں کی قبا کہناKaif Azimabadi (b. 1937)
- دیوار و در پہ خون کے چھینٹے ہیں جا بہ جابکھرا ہوا ہے رنگ حنا تیرے شہر میںKaif Azimabadi (b. 1937)
- جب سے کسی سے درد کا رشتہ نہیں رہاجینا ہمارا تب سے ہی جینا نہیں رہاdarvesh bharti (b. 1937)
- جب محبت کا کسی شے پہ اثر ہو جائےایک ویران مکاں بولتا گھر ہو جائےdarvesh bharti (b. 1937)
- خوش فہمیٔ ہنر نے سنبھلنے نہیں دیامجھ کو مری انا ہی نے پھلنے نہیں دیاdarvesh bharti (b. 1937)
- درد اوروں کا دل میں گر رکھئےبے غرض ہو کے عمر بھر رکھئےdarvesh bharti (b. 1937)
- سامنے جو کہا نہیں ہوتاتم سے کوئی گلہ نہیں ہوتاdarvesh bharti (b. 1937)
- انسان سے انسان کو نفرت نہیں اچھیاحسان جتانے کی بھی عادت نہیں اچھیYaseen Barari (b. 1937)
- ماجرا الفت کا تیری اور ہم لکھیں گے کیاپیار تجھ سے ہو گیا ہے اس کو پھر بھولیں گے کیاYaseen Barari (b. 1937)
- محبت کرنے والوں کی عنایت بھی ضروری ہےجو ہے سچی محبت تو صداقت بھی ضروری ہےYaseen Barari (b. 1937)
- یہ جو احباب ہیں میرے سبھی کترانے لگتے ہیںنہ جانے اس غریبی سے یہ کیوں گھبرانے لگتے ہیںYaseen Barari (b. 1937)
- آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیابند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیاNida Fazli (1938–2016)
- آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہیجب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی سہیNida Fazli (1938–2016)
- آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میںصدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میںNida Fazli (1938–2016)
- اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والاہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والاNida Fazli (1938–2016)
- اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائےگھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائےNida Fazli (1938–2016)
- اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیںرخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیںNida Fazli (1938–2016)
- اٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوارات کے بعد دن آج کے بعد کل جو ہوا سو ہواNida Fazli (1938–2016)
- اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرویوں بھی نہ کر سکو تو پھر گھر میں خدا خدا کروNida Fazli (1938–2016)
- اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہےجو ہوا وہ نہ ہوا ہوتا یہ غم باقی ہےNida Fazli (1938–2016)
- اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگاوہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگاNida Fazli (1938–2016)
- انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھیاللہ نگہبان یہاں بھی ہے وہاں بھیNida Fazli (1938–2016)
- ایک ہی دھرتی ہم سب کا گھر جتنا تیرا اتنا میرادکھ سکھ کا یہ جنتر منتر جتنا تیرا اتنا میراNida Fazli (1938–2016)
- بندرابن کے کرشن کنھیا اللہ ہوبنسی رادھا گیتا گیا اللہ ہوNida Fazli (1938–2016)
- بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماںیاد آتی ہے! چوکا باسن چمٹا پھکنی جیسی ماںNida Fazli (1938–2016)
- بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتاجو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتاNida Fazli (1938–2016)
- پھر گویا ہوئی شام پرندوں کی زبانیآؤ سنیں مٹی سے ہی مٹی کی کہانیNida Fazli (1938–2016)
- تلاش کر نہ زمیں آسمان سے باہرنہیں ہے راہ کوئی اس مکان سے باہرNida Fazli (1938–2016)
- تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گےجب تک آنسو پاس رہیں گے تب تک گیت سنائیں گےNida Fazli (1938–2016)
- تنہا ہوئے خراب ہوئے آئنہ ہوئےچاہا تھا آدمی بنیں لیکن خدا ہوئےNida Fazli (1938–2016)
- تو قریب آئے تو قربت کا یوں اظہار کروںآئنہ سامنے رکھ کر ترا دیدار کروںNida Fazli (1938–2016)
- تیرا سچ ہے ترے عذابوں میںجھوٹ لکھا ہے سب کتابوں میںNida Fazli (1938–2016)
- ٹھہرے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئےسورج میں دھواں چاند میں صحرا نظر آئےNida Fazli (1938–2016)