Poetry
Poet
Meter
- کسی منزل میں بھی حاصل نہ ہوا دل کو قرارزندگی خواہش ناکام ہی کرتے گزریQaisar Shameem (1936–2021)
- موسم عجیب رہتا ہے دل کے دیار کاآگے ہیں لو کے جھونکے بھی ٹھنڈی ہوا کے بعدQaisar Shameem (1936–2021)
- بستہ لب تھا وہ مگر سارے بدن سے بولتا تھابھید گہرے پانیوں کے چپکے چپکے کھولتا تھاUrfi Aafaqi (b. 1936)
- پھر کیا جو پھوٹ پھوٹ کے خلوت میں روئیےیکسر جہان ہی کو نہ جب تک ڈبوئیےUrfi Aafaqi (b. 1936)
- جینے کے ڈھب جب آئے تو مرنا پڑا مجھےکس غم سے رم کیا کہ ٹھہرنا پڑا مجھےUrfi Aafaqi (b. 1936)
- رواں دواں سوئے منزل ہے قافلہ کہ جو تھاوہی ہنوز ہے یک دشت فاصلہ کہ جو تھاUrfi Aafaqi (b. 1936)
- رہ جاتی ہے ہر چیز جہاں سائے میں ڈھل کروہ دیس بھی اک بار ذرا دیکھیے چل کرUrfi Aafaqi (b. 1936)
- صبا سے آتی ہے کچھ بوئے آشنا مجھ کوبلا رہا ہے مرے خوں کا ذائقہ مجھ کوUrfi Aafaqi (b. 1936)
- کہتے ہو کچھ کہوں تو غلط سربسر غلطکیوں کر بنے کہو جو ہر اک بات پر غلطUrfi Aafaqi (b. 1936)
- نہ آنکھ چھلکی نہ ہونٹ لرزے نہ سانس الجھی نہ دل ہی دھڑکاکہاں وہ جذبات کا تلاطم نہ تم وہ تم تھے نہ ہم وہ ہم تھےUrfi Aafaqi (b. 1936)
- وہ دھیان کی راہوں میں جہاں ہم کو ملے گابس ایک چھلاوے سا کوئی دم کو ملے گاUrfi Aafaqi (b. 1936)
- ہے بھی کچھ یا کہ سمک تا بہ سما کچھ بھی نہیںپوچھا جب جب تو یہی آئی صدا کچھ بھی نہیںUrfi Aafaqi (b. 1936)
- ہے دل میں ایک بات جسے در بہ در کہیںہر چند اس میں جان بھی جائے مگر کہیںUrfi Aafaqi (b. 1936)
- ایک اک پتا ہواؤں سے ہے لڑنے والاپیڑ اس کا نہیں آندھی سے اکھڑنے والاAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- جتنی تیزی سے آ رہا تھا وہلوٹ کر دور جا رہا تھا وہAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- خالی الذہن ہوئے جب سے خلاؤں کی طرحہم بھٹکتے رہے بے لاگ ہواؤں کی طرحAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- زخموں کے دہن بھر دے خنجر کے نشاں لے جابے سمت صداؤں کی رفعت کا گماں لے جاAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- سینہ لہولہان ہے کالی چٹان کاپتھر میں بھی گمان سا ہوتا ہے جان کاAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- عمر بے وجہ نہ بے ربط گزاری جائےآئنہ دیکھ کے تصویر اتاری جائےAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- منہ جو دیکھے آئینہ گر کانچ کامسکرا اٹھے مقدر کانچ کاAajiz Hengan Ghati (1936–2008)
- دل شب فرقت سکوں کی جستجو کرتا رہارات بھر دیوار و در سے گفتگو کرتا رہاNaaz Muradabadi (b. 1936)
- عقل گہوارۂ اوہام ہوئی جاتی ہےہر تمنا مری ناکام ہوئی جاتی ہےNaaz Muradabadi (b. 1936)
- غنچے غنچے پہ گلستاں کے نکھار آ جائےجس طرف سے وہ گزر جائیں بہار آ جائےNaaz Muradabadi (b. 1936)
- گزر کر آدمی راہ مصیبت سے سنورتا ہےقمر کا نور شب کی ظلمتوں میں ہی نکھرتا ہےNaaz Muradabadi (b. 1936)
- مری جستجو کا حاصل مرا شوق والہانہمری آرزو کی منزل نہ چمن نہ آشیانہNaaz Muradabadi (b. 1936)
- وہ کون ہے دنیا میں جو مجبور نہیں ہےانساں کو کسی بات کا مقدور نہیں ہےNaaz Muradabadi (b. 1936)
- آج پھر رنگ پہ ہے شام خدا خیر کرےپھر مرے ہاتھ میں ہے جام خدا خیر کرےBal Swaroop Rahi (b. 1936)
- حسن کو بے نقاب دیکھا ہےجیوں کھلی آنکھ خواب دیکھا ہےBal Swaroop Rahi (b. 1936)
- دل کی ہر آرزو ناکام ہوئی جاتی ہےزندگی درد کا پیغام ہوئی جاتی ہےBal Swaroop Rahi (b. 1936)
- پھٹتے ارادے یقین مصیبت پاؤں دھلائےچشمہ کہ ہونٹ شبیہ لعاب میسر رات انوکھا سانحہ ہو جائے گاIftikhar Jalib (1936–2003)
- روشن روشن روشنآنکھیں یوں مرکوز ہوئی ہیں جیسے میں ہی میں ہوںIftikhar Jalib (1936–2003)
- میں خزاں میں گرفتار ہوںدیکھو خوابیدہ موجوں خریدار روحوںIftikhar Jalib (1936–2003)
- ابھی کچھ دن مجھے اس شہر میں آوارہ رہنا ہےکہ اب تک دل کو اس بستی کی شامیں یاد آتی ہیںChaudhary Mohammad Naeem (b. 1936)
- نوک مینار پہ اٹکی ہوئی قمری سے بھلاکیا پتہ خاک چلاChaudhary Mohammad Naeem (b. 1936)
- وہ چائے کی پیالی پہ یاروں کے جلسےوہ سردی کی راتیں وہ زلفوں کے قصےAabidullah Ghazi (1936–2021)
- آرزو ناکام ہو کر رہ گئی ہےزندگی الزام ہو کر رہ گئی ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریںڈال کر بانہوں میں باہیں پیار کی باتیں کریںQaisar Siddiqi (1937–2018)
- اک بھیڑ ہے جلووں کی اور میری نظر تنہاہے آئنہ خانے میں خود آئینہ گر تنہاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- انا کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر جاتااگر میں ٹوٹ نہ جاتا بکھر بکھر جاتاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- تم خواب میں آؤ گے یہ معلوم نہیں تھاپھر خواب دکھاؤ گے یہ معلوم نہیں تھاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- تیرے لہجے کا تری بات کا آئینہ ہےمیرا ہر شعر تری ذات کا آئینہ ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- جب بھی مجھ کو اپنا بچپن یاد آتا ہےبچپن کے اک پیار کا بچپن یاد آتا ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- جب تری یادوں کی پروائی غزل گاتی ہےپھول کھل اٹھتے ہیں تنہائی غزل گاتی ہےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- خواب جو دیکھے ہیں میں نے انہیں پیکر دے گامیرا صحرا مجھے اک روز سمندر دے گاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- رشتہ کیسے ٹوٹتا ہے خواب سے تعبیر کاآؤ دکھلاؤں تمہیں یہ کھیل بھی تقدیر کاQaisar Siddiqi (1937–2018)
- روشنی صبح کی یا شب کی سیاہی دیں گےجو بھی دینا ہے تمہیں ظل الٰہی دیں گےQaisar Siddiqi (1937–2018)
- رہ حیات کو آساں بنا سکو تو چلوہمارا ساتھ اگر تم نبھا سکو تو چلوQaisar Siddiqi (1937–2018)
- زلفوں کے سائے میں آ کر چین ملا ہے پہلی بارمیری پیاسی آنکھوں نے دریا دیکھا ہے پہلی بارQaisar Siddiqi (1937–2018)
- عالم بے چہرگی میں کون کس کا آشناآج کا ہر لفظ ہے مفہوم سے نا آشناQaisar Siddiqi (1937–2018)
- فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوںخلاؤں میں بکھرتا جا رہا ہوںQaisar Siddiqi (1937–2018)