پردیس میں ہوں اور گھنی تیرگی تو ہے
Aabid Adeeb (b. 1937)پردیس میں ہوں اور گھنی تیرگی تو ہے
پر مطمئن ہوں رات ترے شہر کی تو ہے
دھرتی پہ آ رہیں گی ابھی سب بلندیاں
چٹان دھیرے دھیرے کھسکنے لگی تو ہے
اس کا تو غم نہیں کہ مخالف سبھی ہوئے
چبھتی ہوئی سی بات بھی ہم نے کہی تو ہے
پھیلا کے ہاتھ پیر نہ سو جائے چاندنی
ساحل ہے رت جوان ہے اور رات بھی تو ہے
کھولو نہ کھڑکیاں کہ سویرا نہیں ہوا
بجھتے ہوئے دئے ہیں ابھی روشنی تو ہے
تنہائی میں یہ کون ہے چونکا گیا مجھے
وہ آدمی نہیں نہ سہی پر کوئی تو ہے