اپنے ماضی کی طرح اب بھی درخشندہ ہوں

Ghani Ahmad Ghani (b. 1937)

اپنے ماضی کی طرح اب بھی درخشندہ ہوں

نازش حال ہوں صورت گر آئندہ ہوں

مار ہی ڈالا تھا افکار جہاں نے مجھ کو

یہ مری زندہ دلی ہے کہ ابھی زندہ ہوں

تو پشیماں ہے ادھر اپنی ستم کوشی پر

میں ادھر شکوۂ بیداد پہ شرمندہ ہوں

سارے عالم میں ہے مینارۂ نور اپنا وجود

میں اندھیروں میں اجالوں کا نمائندہ ہوں

نذر آلام سہی خاک بر اندام سہی

میں ستاروں کی طرح پھر بھی درخشندہ ہوں

مایۂ ناز ہے مجھ کو یہ توانائیٔ فکر

ہے یہی بات کہ میں زندہ و پائندہ ہوں

یہی نسبت ہے بہت میرے تعارف کے لئے

میں ترا چاہنے والا ترا جوئندہ ہوں

اپنے ہی شہر میں کھولی تھی فضاؔ نے آنکھیں

فخر ہے مجھ کو اسی شہر کا باشندہ ہوں

عمر ساری مری خطرات میں گزری ہے غنیؔ

آج بھی میں انہیں حالات میں ہوں زندہ ہوں