Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئیصبا کے پاؤں تھک گئے مگر بہار آ گئیDarshan Singh (1921–1989)
  2. کہیں جمال ازل ہم کو رونما نہ ملاملے تو حسن مگر حسن آپ سا نہ ملاDarshan Singh (1921–1989)
  3. گلوں پہ خاک محن کے سوا کچھ اور نہیںچمن میں یاد چمن کے سوا کچھ اور نہیںDarshan Singh (1921–1989)
  4. نگاہ مست ساقی کا سلام آیا تو کیا ہوگااگر پھر ترک توبہ کا پیام آیا تو کیا ہوگاDarshan Singh (1921–1989)
  5. وہ سلیقہ ہمیں جینے کا سکھا دے ساقیجو غم دہر سے بیگانہ بنا دے ساقیDarshan Singh (1921–1989)
  6. ہنسی گلوں میں ستاروں میں روشنی نہ ملیملے نہ تم تو کہیں بھی ہمیں خوشی نہ ملیDarshan Singh (1921–1989)
  7. ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہDarshan Singh (1921–1989)
  8. رہ عشق کی انتہا چاہتا ہوںجنوں سا کوئی رہنما چاہتا ہوںDarshan Singh (1921–1989)
  9. رہ گیا راہ میں جب کچھ بھی نہ کانٹوں کے سواتیرگی جھوٹ کی جب چھا گئی سچائی پرDarshan Singh (1921–1989)
  10. فکر و آلام کے بادل میں ہیں انوار حیاتروشنی کیا کسی تنویر کا پرتو بھی نہیںDarshan Singh (1921–1989)
  11. آزادی کا جشن مناؤگیت خوشی کے مل کے گاؤRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  12. برسات کی بہارو مجھ کو نہ اب ستاؤجو خود ہی مٹ رہا ہے اس کو نہ تم مٹاؤRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  13. تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گےخدایا عمر بھر رویا کریں گےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  14. دل مایوس بتا اے دل ناکام بتامبتلائے ستم گردش ایام بتاRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  15. دل ہے رنجور یہاںہے یہ دستور یہاںRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  16. سب نے مجھ سے کیا ہے کناراصرف تیرا ہے یا رب سہاراRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  17. سوزش غم کا بیاں لب پہ نہ لاؤں کیونکردرد ہے حد سے سوا دل میں چھپاؤں کیونکرRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  18. فٹ پاتھ پہ اک بیکس انساںتکلیف میں تڑپا کرتا ہےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  19. فسانۂ غم دل اب نہیں سنے جاتےشب فراق میں تارے نہیں گنے جاتےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  20. کیوں ٹیس سی دل میں اٹھتی ہے کیوں درد سے جی گھبراتا ہےپہلے تو نہ تھا ایسا عالم اب دل کیوں ڈوبا جاتا ہےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  21. گوشۂ دل میں تیرا درد چھپایا میں نےچشم تر کو بھی نہ یہ راز بتایا میں نےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  22. مری تصویر لے کر کیا کرو گےمری تصویر اک خواب پریشاںRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  23. میں تلاش کر رہی تھی غم دل کا کچھ بہانہمری راہ میں یہ ناحق کہاں آ گیا زمانہRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  24. دیکھی تھیں کبھی میں نے بھی برکھا کی بہاریںاب ٹوٹے ہوئے دل کو خدارا نہ دکھاؤRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  25. مرے لیے شب مہتاب اک قیامت ہےتم آؤ چاند ستاروں میں دل نہیں لگتاRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  26. ناشادؔ نہ کوئی نغمہ ہے یہ درد بھرا اک نالہ ہےکیا سمجھے کوئی درد جگر جب چوٹ نہ دل پر کھائی ہوRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  27. وقت اک ضرب لگائے تو غزل ہوتی ہےدرد اگر دل میں سمائے تو غزل ہوتی ہےRabia Sultana Nashad (b. 1921)
  28. آنے کو تو بالیں پر وہ جان بہار آیالیکن دل مضطر کو پھر بھی نہ قرار آیاKaleem Saronji (b. 1921)
  29. بہ فیض عشق ہم نے جب خرد کا راستہ بدلامذاق زندگی کے ساتھ دل کا مدعا بدلاKaleem Saronji (b. 1921)
  30. بیکلی درد میں شامل کبھی ایسی تو نہ تھیطبع پروانۂ محفل کبھی ایسی تو نہ تھیKaleem Saronji (b. 1921)
  31. جو راہ رو میں ابھی عزم رہروی کم ہےبہ قید ہوش و خرد آج آگہی کم ہےKaleem Saronji (b. 1921)
  32. زندگی وقف غم و حسرت و آلام سہیآپ دے دیں تو یہی عشق کا انعام سہیKaleem Saronji (b. 1921)
  33. صورت واقعات کچھ بھی نہیںچبھ گئی ورنہ بات کچھ بھی نہیںKaleem Saronji (b. 1921)
  34. کاش محفل میں آج تو بھی ہواور کچھ میری گفتگو بھی ہوKaleem Saronji (b. 1921)
  35. کوئی پورا جو مدعا نہ ہوازندگی کے لئے برا نہ ہواKaleem Saronji (b. 1921)
  36. کوئی سکوں کی راہ نہیں ہےلیکن لب پر آہ نہیں ہےKaleem Saronji (b. 1921)
  37. مانا کہ میں اک نغمۂ بے صوت و صدا ہوںبھٹکے ہوئے لوگوں کے لئے بانگ درا ہوںKaleem Saronji (b. 1921)
  38. ہر ساعت بہار و مسرت گزر گئیدل کیا گیا کہ لذت درد جگر گئیKaleem Saronji (b. 1921)
  39. ہر نفس انقلاب ہو جیسےآگہی اضطراب ہو جیسےKaleem Saronji (b. 1921)
  40. امید سے تھا تصور امید ہی نہ رہیشب فراق میں پہلی سی بے کلی نہ رہیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  41. بات اب آئی سمجھ میں کہ حقیقت کیا تھیایک جذبات کی شدت تھی محبت کیا تھیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  42. بس اک کشاکش کا سلسلہ ہے ازل سے جو آج تک رہا ہےفلک کی منکر زمیں رہی ہے زمیں کا منکر فلک رہا ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  43. بنا کے اپنے سفینے کا ناخدا مجھ کوکسی نے کر دیا طوفاں سے آشنا مجھ کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  44. حجاب آنے لگا اب تو بلائے آسمانی کوخدا رکھے سلامت تیرے ناز باغبانی کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  45. خلش بخشی تپش بخشی گداز اپنا دیا میں نےمزاج حسن کو بھی کر دیا غم آشنا میں نےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  46. خیال انجام آرزو تھا کہ ایک جھونکا تھا تیز لو کاجھلس گیا وہ حسین پودا جو ناز پروردہ تھا نمو کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  47. خیال کے پھول کھل رہے ہیں بہار کے گیت گا رہا ہوںترے تصور کی سرزمیں پر نئے گلستاں کھلا رہا ہوںEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  48. خیال و خواب کی باتوں کو دہرانے سے کیا ہوگاحقیقت سامنے ہے جب تو افسانے سے کیا ہوگاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  49. دل اب اسیر زلف پریشاں نہیں رہاجب اپنا غم ہوا غم جاناں نہیں رہاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  50. دل کے مریض ذہن کے بیمار کیوں ہوئےزلفوں سے کھیلتے تھے سر دار کیوں ہوئےEhsan Darbhangavi (1922–1998)