حجاب آنے لگا اب تو بلائے آسمانی کو
Ehsan Darbhangavi (1922–1998)حجاب آنے لگا اب تو بلائے آسمانی کو
خدا رکھے سلامت تیرے ناز باغبانی کو
مقید جو رکھے لفظوں کی دنیا میں معانی کو
سلام اس شعر گوئی کو سلام اس شعر خوانی کو
محبت کردگار غم ہے غم تخلیق کرتی ہے
محبت کرنے والے بھول جائیں شادمانی کو
شکایت تو محبت ہی کا اک طبعی نتیجہ ہے
محبت ہی ہوا دیتی ہے ہر اک بد گمانی کو
ہمیں زلفوں کے سائے میں میسر کس طرح ہوتی
اک ایسی دھوپ جو سرگرم رکھتی نوجوانی کو
غم دنیا تو کیا احساںؔ غم جاناں نے کب بخشا
اک ایسا درد جو بیدار کر دے زندگانی کو
گریباں چاک ہے احسانؔ تو فکر رفو کیوں ہے
کوئی برباد کرتا ہے محبت کی نشانی کو