دل اب اسیر زلف پریشاں نہیں رہا
Ehsan Darbhangavi (1922–1998)دل اب اسیر زلف پریشاں نہیں رہا
جب اپنا غم ہوا غم جاناں نہیں رہا
شاخیں کچھ اس طرح سے جھک آئیں مری طرف
مجھ کو لحاظ تنگیٔ داماں نہیں رہا
مشکل یہ آ پڑی ہے کہ داماں نہیں رہا
عقل و جنوں میں صلح کرا دی خزاں نے پھر
گلشن میں کوئی چاک گریباں نہیں رہا
اے پاسبان پردۂ اوہام ہوشیار
دیر و حرم کی قید میں انساں نہیں رہا
وہ ولولے ہیں اب نہ تبسم نہ قہقہے
جس سے ملے تھے آپ وہ احساںؔ نہیں رہا