جو راہ رو میں ابھی عزم رہروی کم ہے
Kaleem Saronji (b. 1921)جو راہ رو میں ابھی عزم رہروی کم ہے
بہ قید ہوش و خرد آج آگہی کم ہے
فضائے دہر پہ چھانے لگی ہے تاریکی
کئی چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے
ہیں یوں تو آج بھی پابند مہر و ماہ مگر
ہنوز ذہن میں انساں کے روشنی کم ہے
ہزار کوشش پیہم کے بعد بھی لوگو
مرے ذہن میں ابھی ربط باہمی کم ہے
سمٹ کے مرکز اصلی پہ آ چکی دنیا
مگر دلوں میں کچھ احساس زندگی کم ہے
کلیمؔ عظمت عہد وفا سے واقف ہے
مگر شعور وفا آپ کو ابھی کم ہے