آنے کو تو بالیں پر وہ جان بہار آیا
Kaleem Saronji (b. 1921)آنے کو تو بالیں پر وہ جان بہار آیا
لیکن دل مضطر کو پھر بھی نہ قرار آیا
ہر رہبر منزل سے پوچھا ہے نشاں تیرا
کر مجھ پہ یقیں تجھ کو ہر سمت پکار آیا
انداز تغافل پر غصہ تھا بہت لیکن
وہ سامنے جب آئے بے ساختہ پیار آیا
اے اہل خرد تم نے الٹا نہ نقاب ان کا
اور میرا جنوں جا کر زلفوں کو سنوار آیا
تھے میری طبیعت پر جو بار کلیمؔ اب تک
پابند خرد رہ کر وہ دن بھی گزار آیا