امید سے تھا تصور امید ہی نہ رہی
Ehsan Darbhangavi (1922–1998)امید سے تھا تصور امید ہی نہ رہی
شب فراق میں پہلی سی بے کلی نہ رہی
جو بات سارے فسانے کی جان تھی شاید
ملے جب ان سے تو وہ بات یاد ہی نہ رہی
سوا ہمارے کسی پر بھی یہ کرم نہ ہوا
سوا ہمارے کسی سے یہ بے رخی نہ رہی
ہوا تمہارا تبسم بھی رائیگاں آخر
مزاج دل میں یہاں تک شگفتگی نہ رہی
جو اس زمین کا ذرہ کوئی چمک اٹھا
تو پھر فلک کے ستاروں میں روشنی نہ رہی
ڈبو کے ناؤ مری مطمئن ہوا دریا
مزاج موج میں اس دن سے سرکشی نہ رہی
سیاہی شب کی گھٹی یا نہیں مگر احساںؔ
وہ آ گئے تو ان آنکھوں میں تیرگی نہ رہی