بنا کے اپنے سفینے کا ناخدا مجھ کو
Ehsan Darbhangavi (1922–1998)بنا کے اپنے سفینے کا ناخدا مجھ کو
کسی نے کر دیا طوفاں سے آشنا مجھ کو
میں ایک سنگ سر افگندہ تو ہے سنگ تراش
ستون کعبہ بنا یا صنم بنا مجھ کو
میں خود غرض ہوں کسی کا نہیں ہوں اپنے سوا
زمانہ ہے کہ سمجھتا ہے آشنا مجھ کو
تمہارا شہر گلستاں سہی مگر اس میں
ملے ہیں خون کے دھبے بھی جا بجا مجھ کو
میں زندگی سے بہت کچھ مطالبہ کرتا
تری نگاہ نے خاموش کر دیا مجھ کو
نگاہ شوق ہی بہتر ہے التجا کے لیے
زباں کھلے گی تو سمجھیں گے وہ گدا مجھ کو
وہ بد نصیب مسافر ہوں راہ ہستی کا
نہ راہزن ہی میسر نہ رہ نما مجھ کو
گلا نہیں مجھے احساںؔ تہی سہی دامن
یہ کم نہیں کہ ملا دست بے دعا مجھ کو