Poetry
Poet
Meter
- چاند مدھم ہے آسماں چپ ہےنیند کی گود میں جہاں چپ ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںنہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چند کلیاں نشاط کی چن کرمدتوں محو یاس رہتا ہوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- خدائے برتر تری زمیں پر زمیں کی خاطر یہ جنگ کیوں ہےہر ایک فتح و ظفر کے دامن پہ خون انسان کا رنگ کیوں ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- خون اپنا ہو یا پرایا ہونسل آدم کا خون ہے آخرSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دبے گی کب تلک آواز آدم ہم بھی دیکھیں گےرکیں گے کب تلک جذبات برہم ہم بھی دیکھیں گےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دھرتی کی سلگتی چھاتی سے بے چین شرارے پوچھتے ہیںتم لوگ جنہیں اپنا نہ سکے وہ خون کے دھارے پوچھتے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- رات سنسان تھی بوجھل تھیں فضا کی سانسیںروح پر چھائے تھے بے نام غموں کے سائےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- زندگی سے انس ہےحسن سے لگاؤ ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہےخون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہوایک آوارۂ منزل کو ستاتی کیوں ہوSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہےکہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کوئی دل کی چاہت سے مجبور ہےجو بھی ہے وہ ضرورت سے مجبور ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- گاندھیؔ ہو یا غالبؔ ہوختم ہوا دونوں کا جشنSahir Ludhianvi (1921–1980)
- لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیںروح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- مایوس تو ہوں وعدے سے ترےکچھ آس نہیں کچھ آس بھی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- مرے سرکش ترانے سن کے دنیا یہ سمجھتی ہےکہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں سے نفرت ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑاپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سناSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والیتیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں نے جس وقت تجھے پہلے پہل دیکھا تھاتو جوانی کا کوئی خواب نظر آئی تھیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھےآج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیمجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- وہ ستارے جن کی خاطر کئی بیقرار صدیاںمری تیرہ بخت دنیا میں ستارہ وار جاگیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کےیہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیایہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ وطن تیری مری نسل کی جاگیر نہیںسینکڑوں نسلوں کی محنت نے سنوارا ہے اسےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- برسو رام دھڑاکے سےبڑھیا مر گئی فاقے سےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- جوان رات کے سینے پہ دودھیا آنچلمچل رہا ہے کسی خواب مرمریں کی طرحSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیںتم نے کسی کے ساتھ محبت نبھا تو دیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہمیں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بے پئے ہی شراب سے نفرتیہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- پھر نہ کیجے مری گستاخ نگاہی کا گلادیکھیے آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کوSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تم میرے لیے اب کوئی الزام نہ ڈھونڈوچاہا تھا تمہیں اک یہی الزام بہت ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوںتیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میںجو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیںوہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیتدیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یوں ہی دل نے چاہا تھا رونا رلاناتری یاد تو بن گئی اک بہاناSahir Ludhianvi (1921–1980)
- آج دل سے دعا کرے کوئیحق الفت ادا کرے کوئیDarshan Singh (1921–1989)
- بہت مشکل ہے ترک آرزو ربط آشنا ہو کرگزر جا وادیٔ پر خار سے باد صبا ہو کرDarshan Singh (1921–1989)
- تجھے کیا خبر مرے ہم سفر مرا مرحلہ کوئی اور ہےمجھے منزلوں سے گریز ہے میرا راستہ کوئی اور ہےDarshan Singh (1921–1989)
- جذبۂ دل کو عمل میں کبھی لاؤ تو سہیاپنی منزل کی طرف پاؤں بڑھاؤ تو سہیDarshan Singh (1921–1989)
- دولت ملی جہان کی نام و نشاں ملےسب کچھ ملا ہمیں نہ مگر مہرباں ملےDarshan Singh (1921–1989)
- رقص کرتی ہے فضا وجد میں جام آیا ہےپھر کوئی لے کے بہاروں کا پیام آیا ہےDarshan Singh (1921–1989)
- عشق شبنم نہیں شرارا ہےراز یہ مجھ پہ آشکارا ہےDarshan Singh (1921–1989)
- قید غم حیات سے اہل جہاں مفر نہیںایسی ملی ہے شام غم جس کی کوئی سحر نہیںDarshan Singh (1921–1989)