کاش محفل میں آج تو بھی ہو
Kaleem Saronji (b. 1921)کاش محفل میں آج تو بھی ہو
اور کچھ میری گفتگو بھی ہو
ڈھونڈنے میں کچھ اور لطف آئے
دل میں گر ذوق جستجو بھی ہو
کچھ تمہارا نشاں نہیں ملتا
اور دنیا میں چار سو بھی ہو
خاک پیدا ہو لطف خود بینی
کوئی آئینہ روبرو بھی ہو
ہوش اڑتے ہیں کس کے دیکھیں گے
گفتگو ان سے دو بدو بھی ہو
طور پر آئیں وہ کلیمؔ مگر
ان کے جلوؤں کی آرزو بھی ہو