ہر نفس انقلاب ہو جیسے
Kaleem Saronji (b. 1921)ہر نفس انقلاب ہو جیسے
آگہی اضطراب ہو جیسے
یاد ماضی کی وہ لطیف کسک
ایک رنگین خواب ہو جیسے
یوں زمانے میں جی رہے ہیں لوگ
کوئی نقش بر آب ہو جیسے
فق رہا ہے نفس نفس میرا
زندگی اک عذاب ہو جیسے
بہر نظارہ جا رہے ہیں کلیمؔ
آج جلوؤں کی تاب ہو جیسے