خلش بخشی تپش بخشی گداز اپنا دیا میں نے

Ehsan Darbhangavi (1922–1998)

خلش بخشی تپش بخشی گداز اپنا دیا میں نے

مزاج حسن کو بھی کر دیا غم آشنا میں نے

خرد نے چارہ سازی کی جنوں نے رہنمائی کی

بڑی مشکل سے پایا سایۂ زلف رسا میں نے

خجل ہوں میں کہ احساس فراغت چھین کر تم سے

غم آرائش کاکل تمہیں کیوں دے دیا میں نے

ہوائیں تند موسم نا موافق باغباں برہم

عجب عالم میں رکھی ہے نشیمن کی بنا میں نے

علاج درد دل مشکل تھا لیکن ہو گیا آساں

محبت کو خودی کا اک نیا نسخہ دیا میں نے

میں کہتا تھا کہ عقل و عشق میں رشتہ نہیں ممکن

مگر اب سوچتا ہوں یہ گریباں کیوں سیا میں نے

خدا کا شکر ہے احسانؔ اس دور تنفر میں

فراہم کر لئے ہیں چند ارباب وفا میں نے